(Ravi: “Muhammad bin Ahmad bin Saeed, Abu Ja‘far al-Razi” ki Tahqeeq) راوی « محمد بن احمد بن سعید ، ابو جعفر الرازی » کی تحقیق

(Ravi: “Muhammad bin Ahmad bin Saeed, Abu Ja‘far al-Razi” ki Tahqeeq) راوی « محمد بن احمد بن سعید ، ابو جعفر الرازی » کی تحقیق

༺❁ راوی « محمد بن احمد بن سعید ، ابو جعفر الرازی » کی تحقیق❁༻

Date.  29-08-2026                                                                    Sr No.  01-05

کیا محمد بن احمد بن سعید ، ابو جعفر الرازی ضعیف الحدیث ہے ؟

محمد بن احمد بن سعید ، ابو جعفر الرازی  ، ثقہ راوی ہیں   ضعیف الحدیث نہیں ہیں ، جنہوں نے اس کو ضعیف الحدیث  کہا ہے  یقینا یہ ان کی قلت تتبع اور  جلد بازی کا نتیجہ ہے ، یاد رہے  کہ شاملہ میں یا کسی سرچ انجن میں راوی کے  ترجمہ میں  اس کے متعلق معلومات  نہ ملنے ، یا   کسی ایک محدث کے قول کو  بغیر  دوسرے محدثین کے اقوال پر نظر کئے لے لینا اور  حکم لگا دینا  قلت فہم  اور سراسر غفلت ہے۔ کسی بھی راوی  کے بارے میں  بغیر تحقیق کے  ، اور بغیر  دوسرے علماء کے اقوال کو دیکھے  اس کا فیصلہ  کر دینا ، یا  کسی  ایک ہی کتاب پر اکتفاء کرنا کہ جس کے مصنف  نے صرف   دیگر کتب سے  جمع مواد  بغیر احاطے کے کیا ہو  یہ عقلمندی نہیں ہے ۔  اس کے نتائج  امت مسلمہ پر گہرے اثر انداز ہوں گے  ، اور  فتنہ و فساد کا  ایک نیا بازار گرم ہو گا۔ 

 لہذا احتیاط   احتیاط احتیاط کی جائے  اور جلد بازی  سے  بچا جائے ۔ اللہ کریم ہمیں  صراط مستقیم کی ہدایت نصیب فرمائے۔  آمین
چنانچہ ملاحظہ فرمائے کہ محمد بن احمد بن سعید الرازی  کی توثیق کیسے ثابت ہوتی ہے ۔
ابو جعفر  محمد بن سعید : یہ محمد بن احمد بن سعید  ، ابو جعفر الرازی ہیں ،  ابن حجر عسقلانی  ان کے بارے میں  فرماتے ہیں کہ :  میں ان کو نہیں جانتا  ہاں البتہ  یہ ایک باطل خبر کو لائے ہیں پھر اس کے بعد  اس خبر کو ذکر کیا اور پھر فرمایا: اس شخص کو امام حاکم نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے ،  اور یہ فرمایا  ہے کہ :  اس شخص نے  امام ابو زرعہ  الرازی ، امام ابو حاتم ، اور ابن وارہ اور  ان کے اقران سے سماع کیا ہے ،پھر دو سو پچاسی ہجری میں  نیشاپور  گئے اور وہاں  ابو عبد اللہ  محمد بن ابراہیم العبدی، ابو العباس بن حمزہ الواعظ، اور اسماعیل بن قتیبہ سے سماع کیا ، اور پھر وقت وفات تک نیشاپور ہی قیام کیا ، ان پر صرف ایک حدیث کی وجہ سے  نکارت ہے ،  اور ان کی عمر  مقام ری کے  شیوخ  سے لقاء  کا  احتمال رکھتی ہے ،  ان کی وفات  جمادی الآخرۃ   تین سو چوالیس  ہجری  میں  98 سال  کی عمر میں ہوئی ، ان سے امام  حاکم نے ایک  حدیث موقوف  وارد کی ہے  جس پر مولف نے نکارت کا اطلاق کیا ہے،   عنقریب اس کی تضعیف امام دار قطنی  کی طرف سے  “محمد بن احمد بن مھران ” کے ترجمہ میں آئے گی۔[1]
پھر  “محمد بن احمد بن مھران “کے  ترجمہ میں فرمایا:   محمد بن احمد بن مھران عن محمد بن القاسم الطالقانی، و عنہ :  ابو جعفر  محمد  احمد  بن سعید الرازی، و ضعفھم الدارقطنی  فی الغرائب[2]
     محمد بن احمد بن مہران  ، محمد بن القاسم الطالقانی سے  روایت  کرتے ہیں   اور  محمد بن احمد  بن مہران سے   ابو جعفر  محمد  بن احمد بن سعید  الرازی  روایت کرتے ہیں  ، اور امام دارقطنی نے  “الغرائب” میں  ان سب کی تضعیف کی ہے ۔

اور  امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ  جو لسان  المیزان میں فرمایا کہ لا أعرفه أتى بخبر باطل هو آفته۔ در حققیت ابن حجر عسقلانی  رحمۃ اللہ علیہ نے یہ قول امام ذہبی کا نقل کیا ہے ۔
تو اب  اس راوی کے بارے میں تین چیزیں سامنے آتی ہیں :
1۔: امام ذہبی علیہ الرحمۃ کا “لا اعرفہ ”  فرمانا ۔
2۔:  اس راوی  کے متعلق یہ کہنا کہ یہ خبر باطل لاتا ہے ۔
3۔:  امام دار قطنی کا  اس راوی کی تضعیف کرنا۔  کیونکہ امام  دارقطنی نے  جو تضعیف کی ہے  وہ بھی اسی روایت کی وجہ سے کی جس کے بارے میں امام ذہبی نے فرمایا کہ  خبر باطل لاتا ہے ۔
تو اب ان تینوں چیزوں کا  جواب  دیتے ہوئے   صاحب “تنزیہ الشریعہ ”   حدیث  : ارحموا طالب العلم  فانہ  متعوب البدن  کے  تحت  فرماتے ہیں کہ : من طريق محمد بن أحمد بن سعيد الرازي، قال الذهبي: لا أعرفه أتى بخبر باطل هو آفته قلت: الخبر الذي قال الذهبي فيه أنه آفته غير هذا، والرجل قد عرف، ترجمه الحاكم في تاريخه، وقال لم ننكر عليه، إلا حديثا واحدا جمع فيه بين أبى العباس بن حمزة ومحمد بن نعيم وسنه كان يحتمل لقي شيوخ الري حكى ذلك الحافظ ابن حجر في اللسان، وحكى أيضا عن الدارقطني أنه قال فيه ضعيف، نعم شيخ محمد المذكور، الحسن بن أبي زيد، لم أقف له على ترجمة، فلعل البلاء منه والله أعلم.[3]
]حدیث  ارحموا طالب العلم فانہ متعوب البدن [ محمد بن احمد بن سعید  الرازی  کے طریق سے ہے ، امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : میں اسے نہیں جانتا ،  یہ خبر باطل لایا ہے  اور وہی اس کی آفت ہے ۔ میں کہتاہوں [صاحب تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ ]  وہ خبر جس کے بارے میں  امام ذہبی  نے  کہا کہ  وہ اس کی آفت ہے ، وہ اس  کے علاوہ ہے  ،اور یہ  شخص بھی معروف ہے ، امام حاکم نے اس کا ترجمہ  اپنی تاریخ میں لکھا  اور فرمایا  کہ : ہم اس پر انکار صرف ایک حدیث کی وجہ سے کرتے تھے کہ اس حدیث میں اس نے ابو  العباس بن حمزہ اور محمد بن نعیم   کو جمع کیا ہے ، اور اس کی عمر  مقام ری  کے شیوخ سے لقاء کا احتمال رکھتی ہے ، اسی بات کو حافظ ابن حجر عسقلانی   رحمۃ اللہ علیہ نے لسان المیزان میں  حکایت کیا  اور اسی طرح  امام دارقطنی سے  حکایت کیا  وہ فرماتے ہیں کہ  اس حدیث میں  ضعیف راوی  ہے ۔ ہاں وہ [ضعیف] محمد بن سعید مذکور کے شیخ الحسن بن ابی زید ہیں، میں  اس کے ترجمے  پر  واقف نہ ہوا ۔  اور شاید کہ بلاء  اسی شخص کی طرف سے ہے ، و اللہ اعلم ۔صاحب تنزیہ الشریعۃ المرفوعہ کی عبارت سے   معاملہ بالکل واضح ہو جاتا ہے  کہ  ان پر انکار صرف ایک حدیث کی وجہ سے تھا  اسی پر امام دارقطنی نے  تضعیف کی اور امام ذہبی نے  لا اعرفہ کہا ، اور صاحب تنزیہ الشریعہ نے یہ بات واضح کر دی کہ  وہ  ضعف  ان کے شیخ کی جانب سے تھا  ان کی جانب سے نہیں تھا   اور  اس کا معروف ہونا بھی بیان کر دیا  تو اب جرح کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی ۔  اور راوی مجہول بھی نہیں ہے ۔    اب  مسئلہ یہاں یہ ہے کہ کیا اس راوی کی توثیق کی جائے گی یا نہیں  ؟ تو  اب  یہ بات یاد رہے   جب راوی معروف ہے  اور  امام  حاکم کے شیوخ میں سے ہے   تو ہم   دیکھتے ہیں کہ کیا  دیگر اسناد جو اس راوی سے مروی ہیں ان میں اس کا کیا حکم بیان ہوا ہے چنانچہ  امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ  “المستدرک علی الصحیحین ” میں  کتاب  التفسیر باب  تفسیر سورۃ یس میں  اسی راوی سے مروی حدیث لائے چنانچہ ملاحظہ کیجیے ”

حدثنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي، ثنا أبو زرعة عبيد الله بن عبد الكريم، ثنا أبو حفص عامر بن سعيد، ثنا القاسم بن مالك المزني، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن سيار أبي الحكم، عن أبي وائل، عن عبد الله رضي الله عنه، قال: ” لما قال صاحب ياسين: يا قوم اتبعوا المرسلين. قال: خنقوه ليموت فالتفت إلى الأنبياء فقال: {إني آمنت بربكم فاسمعون} [يس: 25] أي فاشهدوا لي «هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه» [التعليق – من تلخيص الذهبي] 3605 – ابن إسحاق ضعيف”[4]
دیکھیے  اسی راوی سے مروی حدیث امام  حاکم نے ذکر کی اور اس کے اوپر  صحت کا حکم بھی فرمایا  اور   امام  ذہبی رحمۃ اللہ علیہ   نے  بھی تلخیص میں  اس حدیث کے بارے میں صرف اتنا فرمایا کہ  ” ابن اسحاق ضیعف ہیں ”   اور اس کے علاوہ  یہاں  محمد بن احمد بن سعید الرازی کے اوپر کسی قسم کا کلام نہ فرمایا    جس سے  یہ بات صاف واضح ہوتی ہے کہ  صاحب تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ  نے  جو بتایا ہے کہ  جس ایک حدیث کی وجہ سے امام ذہبی نے   لا اعرفہ اور امام دارقطنی نے   تضعیف کا قول کیا  وہ شاید ان کے شیخ  کی وجہ سے کیا ہے اور یہاں امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  کا  اسی راوی پر سکوت  کرنا ، صاحب تنزیہ الشریعۃ کا    اس راوی کو معروف قرار دینا، امام حاکم کا   ان کی سند کو صحیح قرار دینا  اس بات کا  کھلا ثبوت ہے کہ  یہ راوی نہ تو مجہول ،اور  نہ ہی  ضعیف الحدیث   ہے بلکہ یہ ثقہ راوی ہے ۔ کیونکہ امام حاکم نے  حدیث  کی سند پر صحت کا حکم کیا   تو ظاہر کہ اس راوی کو ثقہ جانا  تبھی تو حکم صحت کیا  اور امام ذہبی نے  علت فقط ابن اسحاق میں بتائی   اور احمد بن سعید الرازی کے بارے میں  سکوت کیا تو انہوں نے بھی گویا  اس راوی کے بارے میں امام  حاکم کی توثیق کو قبول کیا ۔لہذا واضح ہو گیا کہ راوی  ثقہ ہے  ۔ و اللہ اعلم  ۔

از: قاسم چوہدری

متخصص فی الحدیث وعلومہ جوہر ٹاؤن لاہور

 تخریج

[[1]]۔۔۔۔۔[لسان المیزان لابن حجر، حرف المیم ، من اسمہ محمد ، ج5، ص 39، رقم الترجمۃ :137، الناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات بيروت – لبنان، الطبعة: الثانية، 1390هـ /1971م]

[[2]]۔۔۔۔۔[لسان المیزان لابن حجر، حرف المیم ، من اسمہ محمد ، ج5، ص 51، رقم الترجمۃ :175، الناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات بيروت – لبنان، الطبعة: الثانية، 1390هـ /1971م]

[[3]]۔۔۔۔۔[تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ  عن الاخبار  الشنیعۃ الموضوعۃ لابن عراق الکنانی،  کتاب العلم ، الفصل الثالث، ج1، ص 273، رقم الحدیث: 60، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت۔ الطبعة: الأولى، 1399 هـ]

[[4]]۔۔۔۔۔[المستدرک  علی الصحیحین، کتاب التفسیر ، باب تفسیر سورۃ یس، ج2، ص 466، رقم الحدیث:3605، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت،الطبعة: الأولى، 1411 – 1990]