بعض رواۃ کے تراجم پر مطلع نہ ہونے کے اسباب(Baaz Ruwat Ke Tarajim Par Mutalla Na Hone Ke Asbab)

بعض رواۃ کے تراجم پر مطلع نہ ہونے کے اسباب(Baaz Ruwat Ke Tarajim Par Mutalla Na Hone Ke Asbab)

  1. ༺❁ « بعض رواۃ کے تراجم پر مطلع نہ ہونے کے اسباب» کی تحقیق ❁༻
    Date. 29-09-2026 Sr No. 01/06
    بعض رواۃ کے تراجم پر مطلع نہ ہونے کے اسباب
    دراسہ کرنے والے شخص کو بعض اوقات سند میں موجود کسی راوی کا ترجمہ کتب میں نہیں مل رہا ہوتا کہ جس کے سبب وہ اسے مجہول گردانتا ہے اور سند پر ضعف کا حکم لگا دیتا ہے حالانکہ وہ روای مجہول نہیں ہوتا بلکہ اس کا ترجمہ کتب میں موجود ہوتا ہے ، یا کسی بھی وجہ سے وہ اس پر مطلع نہیں ہوتا عموما مبتدئین کو ایسی بہت سی مشکلات کا سامنا رہتا ہے کیونکہ کسی بھی فن کو اچھے طریقے سے جاننے کے لیے اس کی مشق کرنا بہت ضروری ہے اسی طرح احادیث کی سند پر بھی حکم لگانے کے لیے ایک لمبے عرصے تک کسی ماہر فن کےسامنے زانوے تلمذ طے کرنا انتہای ضروری ہے بغیر اسکے مہارت حاصل کرنا قریب قریب محال ہے .
    تو اس بحث میں رواۃ کےتراجم پر عدم اطلاع کے اسباب بیان کریں گے کہ دراسہ کرنے والے شخص کو کن کن امور کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور مجہول ہونے کا حکم کب لگانا چاہیے ۔
    تو کسی بھی راوی کے ترجمہ پر اطلاع نہ ہونے کے چار اہم اسباب ہیں.
    [1] بعض کتب کا مفقود ہونا –
    [2] نساخ کی جانب سے تصحیف و تحریف ہونا –
    [3] طالب علم کو مہارت نہ ہونا –
    [4] تدلیس کا واقع ہونا –
    1۔ بعض کتب کا مفقو د ہونا
    ملت اسلامیہ مختلف ادوار میں مختلف فتنوں سے دو چار رہی ہے جس کی وجہ سے دیگر نظام کے ساتھ ساتھ کتب کا بھی ایسا نقصان ہو ا کہ جس کی تلافی آج تک نہ ہوسکی ، جیسا کہ تاتاریوں کے فتنے کہ جب پورے پورےمکتبے انہوں نے دریائے دجلہ کی نذر کر دئے جیسا کہ آج بھی تاریخ نیشاپور مفقود ہے ، تو ایسا ہوتا ہے کہ بعض کتب جن میں رواۃ کےتراجم مذکور ہوتے ہیں ممکن ہے کہ وہ مفقود ہوں اس بنیاد پر طالب علم کو پریشان نہ ہونا چاہیے بلکہ جہاں تک ہو سکے تلاش کرے اور ماہر فن سےرجوع کرے
    2۔ نساخ کی جانب سے تصحیف و تحریف ہونا
    اور راوی کا ترجمہ نہ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نساخ کی جانب سے بعض اوقات تصحیف یا تحریف کی گئ ہوتی ہے اور بالخصوص آج کے دو ر میں تو ایسے محققین کی بھی کمی نہیں ہے کہ جن کی تحقیق کا مقصد ہی مال کمانا ہوتا ، ایسے لوگ میدان تحقیق میں کود تو پڑتے ہیں لیکن اہلیت نا ہونے کےسبب ایسی ایسی فحش غلطیاں کرتےہیں کہ الامان و الحفیظ ، دراسہ کرنے والے شخص کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کسی بھی کتاب کی فہرست میں کسی کا نام نہ ملنے پر مجہول ہونےکا حکم لگا دینا یہ خیانت کے مترادف ہے بلکہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ فہرست میں وہ نام نہیں ہوتا لیکن کتاب میں ترجمہ موجود ہوتا ہے تو دراسہ کرنے والے کو چاہیے کہ کتاب کے منہج کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان مقامات کو دیکھے کہ جہاں راوی کا ترجمہ متوقع تھا اور اگر وہاں نہ ملے تو محض” لم اقف ” و غیرہ کے الفاظ لکھے اور مجہول کہنے سے احتراز کرے ۔
    3۔ طالب علم کو مہارت نہ ہونا
    مبتدئین کو راوی کا ترجمہ نہ ملنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مبتدی میں مہارت کی کمی ہوتی ہے لیکن اس سے پریشان نہیں ہونا چاہیے اگر آپ کسی ماہر فن کے تحت رہ کر تدریب کے مراحل طے کر رہے ہیں تو ان شاء اللہ تعالی دراسہ کےپیچ و خم بھی سمجھ جائیں گے ، البتہ اس کی کچھ وجوہات ہیں اگر ان پر توجہ دی جائے تو کافی حد تک آسانی ہو سکتی ہے۔
    [1]راوی کو اسکےوالد کے علاوہ دادا کی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے اور مبتدی کو معلوم نہیں ہوتا اور وہ اسے مجہول سمجھ بیٹھتا ہے جیسے ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی کو دادا کی طرف منسوب کیا جاتا ہےجبکہ اصل میں نسب احمد بن محمد بن حنبل ہے۔
    [2]بعض دفعہ راوی کو اسکے والد کےدادا کی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے ، جیسے صالح بن حیی ، یہ اصل میں صالح بن صالح بن مسلم – ان کو حیان بھی کہا جاتاہے – ابن حیی ہے
    اسی طرح ابن ابی ذئب ہیں کہ اصل میں محمد بن عبد الرحمن بن المغیرہ بن الحارث بن ابی ذئب القرشی العامری ہیں۔
    یونہی ابن جریج ہیں کہ انکا اصل نا م و نسب عبد الملک بن عبد العزیز بن جریج الاموی مولاہم ہیں۔
    یونہی ابن ابی لیلی ہیں کہ یہ اصل میں الفقیہ محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی الانصاری ، الکوفی القاضی ابو عبد الرحمن ہیں۔
    بہت دفعہ کتب رجال میں اس پر تنبیہ یو ں کی جاتی ہے کہ راوی جس نام سے مشہور ہو تا ہے اس نام سے ذکر کر کے اس کا جہاں اصل نام مذکور ہوتا ہے وہاں کا احالہ کر دیا جاتا ہے ، اور مر ذکرہ ،تقدم ، تقدم ذکرہ ، سبق ذکرہ و غیرہ کے الفاظ مستعمل ملتےہیں۔
    یا بعض دفعہ راوی کو اس کے کسی مشہور لقب کے ساتھ ذکر کر دیا گیا ہوتا ہے اور اصل نام مذکور نہیں ہوتا جیسے عارم بن الفضل ، تو یہاں عارم لقب ہے اصل نام نہیں ہے اس کا اصل نام محمد بن الفضل ہے ابن حجر علیہ الرحمۃ نے تقریب التہذیب میں دو جگہ پر ان کو ذکر کیا ہے القاب کے باب میں ذکر کیا اور کہا : عارم : محمد بن الفضل [۶۲۶۶] اور پھر رقم نمبر ۶۲۶۶ پر فرمایا کہ محمد بن الفضل السدوسی [ ابو النعمان ] البصری ، لقبہ عارم ثقۃ ثبت تغیر فی آخر عمرہ ، من صغار التاسعۃ ، مات سنۃ ثلاث او اربع و عشرین – ع
    یا بعض دفعہ دراسہ کرنے والا مناہج کتب سے نابلد ہونےکےسبب بعض رواۃ کو اسماء میں تلاش کرتا رہتا ہے جبکہ مصنف نے اپنے منہج کے مطابق انکو کسی دوسری جگہ بیان کیا ہوتا ہے جیسے ابن ابی رواد عبد العزیز ا ب سند میں ابن ابی رواد کے مذکور ہونےکے سبب دراسہ کرنے والا شخص اس کو اسماء میں تلاش کر رہا ہوتا ہے اور جبکہ مصنف نے اس کو اس باب میں ذکر کیا ہے کہ جس میں وہ ان اشخاص کو ذکر کرتے ہیں جو اپنے ماں باپ داد ا چچا وغیر ہ کی طرف منسوب ہوتے ہیں ۔ اگر دراسہ کرنے والا ان امور کو ملحوظ خاطر رکھے گا تو ان شاء اللہ عزوجل بہت کم وقت درست طریقے سے دراسہ کرنے میں کامیاب ہو گا ۔
    4۔ تدلیس کا واقع ہونا
    راوی کے ترجمہ کے نہ ملنے کا ایک سبب تدلیس بھی ہے کہ بعض اوقات مدلسین تدلیس شیوخ کرتے ہیں کہ ایک راوی کو اس کے غیر مشہور نام کنیت لقب وغیرہ سے ذکر کر دیتے ہیں دراسہ کرنے والا بعض اوقات ان کو متعدد روای گردانتا ہے حالانکہ وہ تما م نام ایک ہی شخص کے ہوتے ہیں تو دراسہ کرنے والے کو چاہیے کہ ان امور کو ذہن نشین کر لے وگرنہ اثناے دراسہ ایسی غلطیاں ہوتی ہے کہ جب کوئی ان امو ر سے واقف دیکھتا ہےتو ا س کے سامنے پشیمان ہونا پڑ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہذا ما عندی و اللہ اعلم بالصواب ۔
    رقمطراز: قاسم چوہدری                            
    المتخصص فی الحدیث و علومہ               
    جوہرٹاؤن لاہور.