(Al-Mazid Fi Muttasil-ul-Asaneed) المزیدفی متصل الاسانید
༺❁ المزیدفی متصل الاسانید❁༻
Date. 27-08-2026 Sr No. 01/04 المزیدفی متصل الاسانید
“المزید” “الزیادۃ” مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ ہے ، اور “متصل” یہ “منقطع” کی ضد ہے،اور “اسانید” یہ “اسناد” کی جمع ہے ۔
اصطلاحی تعریف:راوی کا اثنائے سند میں اس طرح زیادتی کرنا کہ وہ ظاہری اعتبار متصل معلوم ہو۔
مثال : ما روی ابن المبارک قال :حدثنا سفیان ، عن عبد الرحمن بن یزید ، حدثنی بسر بن عبید اللہ ، قال : سمعت ابا ادریس ، قال: سمعت واثلۃ یقول : سمعت ابا مرثد یقول: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول :((لا تجلسوا علی القبور و لا تصلوا الیھا))
ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم نا تو قبروں پر بیٹھو اور نا ہی ان کی طرف نماز پڑھو۔
- اس مثال میں زیادت:
- اس مثال میں دو جگہوں پر زیادت ہے 1 “سفیان” 2 “ابا ادریس” دونوں جگہوں پر زیادت کا سبب وہم ہے ۔
- لفظ “سفیان” کی زیادت تو ابن مبارک کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہےاور لفظ”اباادریس” کی زیادت ابن المبارک کی جانب سے ہے۔
البتہ ہمیں”سفیان ” کی زیادت کا اس طرح پتہ چلا کہ ثقات(کہ جن میں ابن مہدی ، حسن بن الربیع ، اور ہناد بن السری وغیرہ شامل ہیں)کی ایک تعداد نے اس حدیث کو “عن ابن المبارک عن یزید بن عبد الرحمن” کے طریق سے روایت کیا ہے اور بعض نے تو لفظ عن کے علاوہ اخبرنا کے صیغے کے ساتھ صراحت بھی کی ہے۔
- اور “ابوادریس” کی زیادت کا اس طرح معلوم ہوا کہ ثقات ( کہ جن میں علی بن حجر ، ولید بن مسلم اور عیسی بن یونس وغیرہ شامل ہیں) کی ایک تعداد نے اس کو “عن عبد الرحمن بن یزید” کے طریق سےروایت کیا اور “ابو ادریس” کوذکر نہیں کیا ،اور بعض نے تو “بسر بن عبید اللہ ” کے “واثلہ ” سے سماع کی صراحت بھی کی ہے، اور آئمہ کرام(جیسا کہ امام بخاری وغیرہ نے وہم کا حکم لگایا ہے ) نے یہاں پر امام ابن المبارک پر وہم کا حکم بھی لگایا ہے ۔
- زیادت کو رد کرنےکی شرطیں
زیادت کو رد کرنے کی دو شرطیں ہیں
- جس نے روایت کو زیادتی کے ساتھ روایت نہیں کیا وہ راوی زیادتی کےساتھ روایت کرنے والے سے مضبوط ہو۔
- زیادت کی جگہ پر سماع کی تصریح موجود ہو۔
اگر ان دو شرطوں میں یا ان میں سے کسی ایک میں خلل آ جاتا ہے تو ایسی صورت میں زیادتی کو قبول کیا جائے گا ، اور جو سند اس زیادتی سے خالی ہو گی اسے منقطع شمار کیا جائے گا لیکن اس کا انقطاع انقطاع خفی ہو گا کہ جس کو “مرسل خفی” کہا جاتا ہے۔
- فوائد نافعہ
- اگر زیادتی سے خالی سند “عن” یا اس جیسے الفاظ سے مروی ہو کہ جن میں سماع کی صراحت نہیں ہوتی تو اسے منقطع شمار ہو نی چاہیے۔
- اور اگر اس میں سماع کی صراحت ہے تو ممکن ہے کہ اس راوی نے وہ حدیث واسطے کےساتھ بھی سنی ہو اور بغیر واسطے کے بھی سنی ہو ۔
- شق اول تو واقعی ہی ایسے ہے کہ اگر خالی الزیادۃ سند “عن” سے مروی ہو تو اسے منقطع ہی شمار کیا جائے گا اور زیادتی والی سند پر عمل کیا جائے گا کیونکہ ثقہ کی طرف سے کی گئی زیادتی مقبول ہوتی ہے۔ جبکہ شق دوم کہ اگر صراحت ہو تو ممکن ہے کہ اس نے دونوں طرح یعنی (بالواسطہ اور بلا واسطہ ) سنی ہو تو یاد رہے کہ علماء کرام زیادۃ پر وہم کا حکم مطلقا نہیں لگاتے بلکہ کسی قرینے کی بنیاد پر ہی لگاتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی نے دونوں طرح اس حدیث کا سماع کیا ہے تو اس پر بھی لازم ہے کہ وہ اس حدیث کو دونوں طرح ہی بیان کردے تاکہ کسی کو شبہ نا ہو۔اور اگر وہ دونوں سماعوں کو بیان نہیں کرے گا تو اسے زیادت پر ہی محمول کیا جائے گا ۔
- المزید فی متصل الاسانید کے بارے میں امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ تعالی نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام “تمییز المزید فی متصل الاسانید” ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
از۔ قاسم چوہدری
متخصص فی الحدیث وعلومہ جوہر ٹاؤن لاہور
27/08/2021
