حدیثِ نبوی صلى الله عليه وسلم: « طوبى لمن رآني وآمن بي » کی تحقیق

حدیثِ نبوی صلى الله عليه وسلم: « طوبى لمن رآني وآمن بي » کی تحقیق

༺❁ حدیثِ نبوی ﷺ: « طوبى لمن رآني وآمن بي، وطوبى سبع مرات لمن لم يرني وآمن بي » کی تحقیق❁༻

Date.  25-08-202                                                                                                                       Sr No.  01/03                                                          ایبسٹرکٹ (خلاصہ)

زیرِ نظر مقالہ حدیثِ نبوی ﷺ: «طوبى لمن رآني وآمن بي، وطوبى سبع مرات لمن لم يرني وآمن بي»کے درجۂ صحت و ضعف کے تفصیلی تنقیدی مطالعہ پر مشتمل ہے۔ اس تحقیق میں حدیث کے تمام معروف طرق، مختلف صحابۂ کرامؓ (ابو امامہ، انس بن مالک، ابو ہریرہ، ابو قتادہ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم) سے مروی اسانید، اور ان کے رواۃ کے طبقات کو اصولِ جرح و تعدیل کی روشنی میں منہجِ محدثین کے مطابق مرتب و تحلیل کیا گیا ہے۔مقالہ میں مسند احمد، مسند ابویعلی، مسند رویانی، صحیح ابن حبان، معاجم طبرانی، جامع المسانید، الطیوریات اور دیگر مصادرِ حدیث سے مروی تمام اسانید کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے، نیز راویانِ مدار (ایمن بن مالک الاشعری، محتسب بن عبد الرحمن، جسر بن فرقد) کی حیثیت پر ائمۂ حدیث کے اقوال کو جمع کر کے ان کا اصولی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔تحکیمِ ائمہ کے باب میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ بعض متقدم و متاخر محدثین (مثلاً ابن عدی، ابن القیسرانی، ذہبی، عراقی، مناوی رحمہم اللہ) نے حدیث کو بعض خاص اسانید کی علت کے سبب ضعیف قرار دیا، جبکہ امام ابن حبان، بوصیری، ہیثمی اور نجم الدین الغزی رحمہم اللہ نے مجموعی طرق کے اعتبار سے حدیث کو صحیح یا قابلِ احتجاج قرار دیا۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کو حسن قرار دے کر اس کے متعدد شواہد و متابعات کی بنیاد پر اس کی تقویت واضح فرمائی ہے۔تحقیقی تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ حدیث پر وارد ضعف سندی جزوی ہے، نہ کہ متنی یا کلی، اور چونکہ ایمن بن مالک کی ثقاہت ثابت ہے، محتسب کو جسر کی متابعت حاصل ہے، اور حدیث متعدد مستقل طرق و شواہد سے مروی ہے، اس لیے یہ روایت صحیح لغیرہ کے درجے تک پہنچتی ہے، بلکہ متقدمین کے منہج کے مطابق صحت کے ادنیٰ مراتب میں داخل ہے۔ یوں یہ حدیث فضائلِ اعمال اور اصولِ احکام دونوں میں قابلِ استدلال ہے۔یہ تحقیق اصولِ حدیث، تطبیقی منہج اور ائمۂ نقد کے اقوال کی روشنی میں حدیثی اختلاف کی علمی تطبیق کی ایک نمائندہ مثال پیش کرتی ہے، جو عصرِ حاضر کی حدیثی تحقیقات میں ایک مفید اضافہ ثابت ہو سکتی ہے۔

کلیدی الفاظ

حدیثِ طوبیٰ، درجۂ حدیث، صحیح لغیرہ، حسن لغیرہ، تعددِ طرق، شواہد و متابعات، ایمن بن مالک الاشعری، محتسب بن عبد الرحمن، جسر بن فرقد، اصولِ جرح و تعدیل، تحکیمِ ائمۂ حدیث، منہجِ متقدمین و متاخرین، فضائلِ ایمان، نقدِ اسناد، روایتِ صحابہ

سوال

عن ابی امامة ان رسول اللہ صلى الله عليه وسلم قال: طوبی  لم رآنی  و آمن بی  و طوبی  سبع مرات لمن لم یرنی  و آمن بی ” اس حدیث مبارکہ کا درجہ صحت و ضعف  بیان کریں ۔ از  محمد عقیل جامی   تخصص فی الفقہ الحنفی

الجواب بعون الملک الوھاب و باللہ التوفیق

مذکورہ بالا حدیث پاک کو  مختلف الفاظ کے  ساتھ مختلف صحابہ کرام سے  کئی ایک محدثین نے روایت کیا ہے   مثلا  : احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے  ابو امامہ  رضی اللہ عنہ سے،   امام احمد بن علی بن  مثنی التمیمی نے  مسند ابو یعلی  الموصلی میں  حضرت انس رضی اللہ عنہ سے،   امام ابو بکر محمد بن ہارون الرویانی نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے ، امام ابو حاتم محمد بن حبان التمیمی نے اپنی صحیح میں حضرت ابو ہریرہ  و حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہما سے ، امام سلیمان بن احمد بن ایوب  ابو القاسم الطبرانی  نے اپنی المعجم الکبیر میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے ، امام یوسف بن عبد اللہ بن محمد  ابو عمر ابن عبد البر نے  الاستذکار  اور التمہید میں ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے ، صدر الدین ابو طاہر السلفی  احمد بن محمد بن احمد  نے الطیوریات میں  ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، حافظ ابن کثیر نے جامع المسانید و السنن میں  ابو قتادۃ  رضی اللہ عنہ سے ،  اب بالترتیب ان  کی سندیں نیچے نقشے میں ملاحظہ کریں:

مسنداحمد مسند ابو یعلی مسند رویانی صحیح ابن حبان صحیح ابن حبان المعجم الکبیر المعجم الکبیر جامع المسانید  و السنن مسند احمد صدر الدین ابو طاہر السلفی ۔الطیوریات  
یزید بن ہارون فضل بن صباح علی بن زید فرائضی عبدا للہ بن محمد الازدی نضر بن محمد بن مبارک محمد بن محمد التمار عبداللہ بن احمد بن حنبل موسی بن داود ہاشم بن قاسم محمد  
ہمام بن یحیی ابو عبیدۃ موسی بن داود اسحاق بن ابراہیم محمد بن عثمان العجلی سہل بن بکار ہدبہ بن خالد ہمام جسر ابو العباس منیر بن احمد –حسین بن میمون – محمد بن علی  
قتادۃ محتسب ہشام ابو عامر العقدی عبید اللہ بن موسی ہمام حماد بن الجعد قتادۃ ثابت احمد بن ابراہیم بن محمد القناد  
ایمن ثابت قتادۃ ہمام بن یحیی ہمام قتادۃ قتادۃ ایمن انس بن مالک ابو طاہر خیر بن عرفہ –  
ابو امامۃ  حضرت انس ایمن قتادۃ قتادۃ ایمن ایمن ابو قتادۃ   یحیی بن عبد اللہ بن بکیر  
    ابو امامۃ ایمن ایمن ابو امامۃ ابو امامۃ     ابن لھیعہ
    ابو ہریرہ  ابو امامۃ      دراج
                  ابو الھیثم
                  ابو سعید الخدری

اس حدیث پاک کو  روایت کرنے والے صحابہ کرام :  1- حضرت ابو امامہ   ، 2- حضرت انس بن مالک ، 3-حضرت ابو ہریرہ ، 4- ابو قتادۃ

طبقہ ثانیہ میں  اسے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے : ثابت البنانی ہیں  ، اور   ابو قتادۃ ، ابو ہریرہ ، ابو امامۃ  رضی اللہ عنہم سے روایت کرنے والے    ایمن ہیں ۔

طبقہ ثالثہ میں     ثابت البنانی سے روایت کرنے والے دو افراد ہیں :   محتسب اور  جسر  ، جبکہ  ایمن سے روایت کرنے والے   ایک فرد ہیں قتادۃ ۔

طبقہ رابعہ میں  قتادۃ سے روایت کرنے والے    : ہشام ، ہمام ، اور حماد بن الجعد  تین راوی ہیں ۔    اور جسر سے ہاشم بن قاسم ثقہ نے ، اور محتسب  سے  ابو عبیدہ نے روایت کی ہے ۔

طبقہ خامسہ میں   ہمام سے : یزید بن ہارون ، ابو عامر العقدی ، عبید اللہ  بن موسی ، سہل بن بکار، اور موسی بن داود  نے روایت کی ہے ۔ مسند رویانی کی سند میں  موسی بن داود ہشام سے وہ قتادہ سے راوی ہیں جو کہ یہاں خطاء محسوس ہوتی ہے  کیونکہ یہ ہشام نہیں بلکہ ہمام ہیں ۔  اور ابو عبیدہ سے فضل بن صباح نے اور  حماد بن الجعد سے ہدبہ بن خالد نے روایت کی ہے ۔

طبقہ سادسہ میں :   یزید بن ہارون سے  امام احمد نے ،  فضل بن  صباح سے  امام ابو یعلی نے  موسی بن داود سے علی بن زید فرائضی نے ،  ابو عامر العقدی سے  اسحاق بن ابراہیم نے ، عبید اللہ بن موسی سے  محمد بن عثمان  العجلی نے ،  سہل بن بکار سے  محمد بن محمد التمار نے ، ہدبہ بن خالد سے  عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے روایت کی ہے ۔

طبقہ سابعہ میں : علی بن زید سے  امام رویانی نے ، اسحاق بن ابراہیم سے عبد اللہ بن محمد الازدی نے ، محمد بن عثمان العجلی سے نضر بن محمد بن مبارک نے ، محمد التمار اور  عبد اللہ بن احمد بن حنبل سے امام طبرانی نے روایت کی ہے ۔

طبقہ ثامنہ : میں عبد اللہ بن محمد  الازدی  ، اور نضر  بن محمد بن مبارک سے امام ابن حبان نے روایت کی ہے ۔

نوٹ :  الطیوریات کی سند جو کہ ابن لھیعہ عن  دراج عن الہیثم  عن ابی سعید الخدری  کے طریق سے مروی ہے ا س میں  سبع مرات کے الفاظ نہیں ہیں ، تین مرتبہ طوبی کے الفاظ ہیں ، اسی طرح  طوبی کا معنی بھی  بیان ہوا ہے  طوبی  جنت میں ایک درخت ہے ۔  اس لیے   روایت کو شمار کئے بغیر  عزیز کا حکم ہے  اور اگر اسے بھی ساتھ ملایا جائے تو  حدیث مشہور  اصطلاحی کے قبیل سے ہے ۔ 

تحکیم آئمہ

امام ابو حاتم محمد بن حبان التمیمی  (متوفی: 354ھ ) نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ۔
 (التقاسیم و الانواع+ صحیح ابن حبان، القسم الثالث ،النوع التاسع ، ذکر خبر قد یوھم من لم یحکم صناعۃ الحدیث ۔۔۔الخ ، 4/352، رقم الحدیث:3554،3555 الناشر: دار ابن حزم – بيروت ، الطبعة: الأولى، 1433 هـ – 2012 م)

  • امام محمد بن طاہر بن علی ، ابو الفضل المقدسی الشیبانی  المعروف بابن القیسرانی     (متوفی :507 ھ ) اپنی کتاب ” ذخیرۃ الحفاظ میں فرماتے ہیں : رَوَاهُ محتسب بن عبد الرَّحْمَن الْبَصْرِيّ: عَن ثَابت، عَن أنس. وَهَذَا لَيْسَ بِمَحْفُوظ عَن ثَابت.محتسب بن عبد الرحمن  البصری  نے اس حدیث کو  عن ثابت  عن انس کے طریق سے روایت کیا ہے  اور ثابت سے یہ حدیث محفوظ نہیں  ۔  (ذخیرۃ الحفاظ ، باب الطاء المھملۃ ، 3/1567، رقم : 3472، الناشر: دار السلف – الرياض ، الطبعة: الأولى، 1416 هـ -1996م)
  • امام ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:  يروى عن ثابت أحاديث ليس بمحفوظة، منها: عن أنس حديث: ‌طوبى لمن رأني۔۔۔ الخ۔ ثابت سے کئی احادیث  روایت کی گئی ہیں  جو محفوظ نہیں ہیں ، انہی میں سے  حضرت انس سے مروی حدیث طوبی لمن رآنی  ہے ۔   (میزان الاعتدال  ، 3/442، رقم الترجمۃ : 7086، الناشر: دار المعرفة للطباعة والنشر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1382 هـ – 1963 م)
  • امام علی بن ابی بکر بن سلیمان  ، ابو الحسن نور الدین ا لہیثمی   (متوفی : 807ھ)  حدیث انس  کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : رواه أحمد، وإسناد أبي يعلى كما تقدم حسن، وإسناد أحمد فيه جسر، وهو ضعيف.   امام احمد نے اسے روایت کیا ہے ، اور ابو یعلی کی سند  -جیسا کہ پہلے گزر چکا – حسن ہے ۔ اور امام احمد کی سند  جس میں  “جسر ” ہے وہ ضعیف ہے ۔  اور  حدیث ابی امامہ  کے بارے میں فرمایا  کہ : رواه أحمد، والطبراني بأسانيد، ورجالها رجال الصحيح غير أيمن بن مالك الأشعري، وهو ثقة.ا س حدیث کو امام احمد نے  اور امام طبرانی نے  کئی سندوں سے روایت کیا ، اور ان کے رجال  صحیح کے رجال ہیں ، سوائے ایمن بن مالک  الاشعری کے  اور بھی ثقہ ہیں ۔   (مجمع الزوائد و منبع الفوائد ، باب ما جاء فيمن آمن بالنبي صلى الله عليه وسلم ولم يره، 10/67، رقم الحدیث : 16698، و ، 16700 ، الناشر: مكتبة القدسي، القاهرة ، عام النشر: 1414 هـ، 1994 م)
  • امام عبد الرحیم بن الحسین بن عبد الرحمن  ، زین الدین ابو الفضل العراقی  (متوفی : 806ھ)  اپنی کتاب “الاربعون العشاریۃ السامیۃ مما وقع لشیخنا من الاخبار العالیۃ ”  میں    جسر عن ثابت  عن انس  مرفوعا کے طریق سے مسند احمد کی روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : وجسر هو ابن فرقد ضعفه ابن معين والنسائي ورواه أحمد هكذا من حديث أبي أمامة من رواية أيمن عنه وأين لا اعرفه ورواه من حديث أبي سعيد الخدري نحوه من رواية ابن لهيعة عن دراج عن أبي الهيثم عن ابي سعيد۔ ترجمہ :  اور جسر  وہ ابن فرقد ہیں ، امام ابن معین اور امام نسائی نے  اس تضعیف کی ہے ۔ اور امام احمد نے  اسی طرح ان سے ابو امامہ کی حدیث  ایمن کے ان سے روایت کرنے کے طریق سے  روایت کی ہے ، اور وہ کہاں سے ہیں میں نہیں جانتا ، اور انہوں نے  ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں سے بھی اسی طرح روایت کی ہے  ابن لھیعہ  عن دراج  عن ابی الھیثم  عن ابی سعید کے طریق سے ۔  (الاربعون العشاریۃ  ، للعراقی ،  الحدیث الاربعون ، ص : 230، الناشر: دار ابن حزم – بيروت الطبعة: الأولى، 1413هـ1992م)
  • امام احمد بن ابی بکر بن اسماعیل البوصیری اپنی کتاب ” اتحاف الخیرۃ المھرۃ   بزوائد المسانید العشرۃ ” میں حدیث ابی امامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں    فرماتے ہیں کہ  : ” رواه أبو داود الطيالسي- وتقدم في الإيمان- وأحمد بن منيع وأحمد بن حنبل وأبو يعلى، ورواته ثقات.ترجمہ :  ابو داود طیالسی نے   -اور وہ کتاب الایمان میں گزر چکا- اور احمد بن منیع  اور احمد بن حنبل  اور ابو یعلی  نے اسے روایت کیا  اور اس کے راوی ثقہ  ہیں ۔  (اتحاف الخیرۃ المھرۃ  بزوائد المسانید العشرۃ ، للبوصیری ، باب فيمن آمن بالنبي صلى الله عليه وسلم ورآه ومن آمن به ولم يره، 7/342، رقم الحدیث : 7013، الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض – السعودية الطبعة: الأولى، 1420 هـ – 1999 م)
  • امام احمد بن علی بن محمد  ، ابو الفضل شہاب الدین   ابن حجر العسقلانی  (متوفی : 852ھ) اپنی کتاب ” الامالی المطلقۃ ”  کی تیراسیویں املاء میں  حدیث طبرانی عن سہل بن بکار  کے بارے میں فرمایا : ” هذا حديث حسن، پھر تھوڑا بعد  فرماتے ہیں کہ : وأيمن وقع هكذا غير منسوب وقد قيل إنه ابن مالك الأشعري ولا يعرف حاله مع ذلك ، ولكن يقوى الحديث بشواهده ، فقد أخرجه أحمد أيضا من حديث أبي سعيد ، وأبو يعلى من حديث أنس ، والطبراني من حديث عبد الله بن بسر وأسانيدها يقوي بعضها بعضا۔ترجمہ :   اور ایمن  اسی طرح بغیر کسی کی طرف منسوب کئے  واقع ہوا ہے ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ  ابن مالک الاشعری ہیں ، ان کا حال معلوم نہیں ، لیکن اس کے باوجود   حدیث اپنے شواہد کے ذریعے  تقویت پاتی ہے ۔ اسے امام احمد نے اسی طرح  ابو سعید خدری کی حدیث سے روایت کیا ، اور ابو یعلی نے  حدیث انس سے  ، اور طبرانی نے  عبد اللہ بن بسر کی حدیث سے روایت کیا ، اور ان کی سندیں  بعض بعض کو تقویت دیتی ہیں ۔ پھر اس کے بعد  چوراسیویں املاء میں مزید اس پر کلام کرتے ہوئے   امام ابو یعلی  کی سند   ابو عبیدہ  عن محتسب  عن ثابت   عن انس  کے طریق پر  امام ابن عدی کا جواب دیتے ہوئے  فرمایا : هذا حديث حسن أخرجه ابن عدي عن أبي يعلى بهذا الإسناد وقال أحاديث محتسب غير محفوظة ، وأخرجه الطبراني في الأوسط من رواية يحيى بن معين عن أبي عبيدة الحداد  ، وقال لم يروه عن ثابت إلا محتسب تفرد به أبو عبيدة قلت أبو عبيدة اسمه عبد الواحد بن واصل من رجال الصحيح ، ومحتسب شيخ بصري يكنى أبا عائذ واسم أبيه عبد الرحمن ، ولم ينفرد به بل تابعه جسر بن فرقد عن ثابت ، أخرجه أحمد ، وقد تقدمت له شواهد كثيرة تعضده ۔ ترجمہ :   یہ حدیث حسن ہے  ابن عدی نے  اسے ابو یعلی سے  اسی سند کے ساتھ  روایت کیا ، اور کہا :ثابت سے روایت کرنے والے صرف محتسب ہیں  اور ابو عبیدہ محتسب سے روایت کرنے میں متفرد ہیں ،  میں کہتا ہوں :  ابو عبیدہ کا نام  عبد الواحد بن واصل  ہے رجال صحیح سے ہیں ، اور محتسب  شیخ بصری ہیں ان کو ابو عائذ کی کنیت  دی جاتی ہے ،  اور ان کے باپ کا نام  عبد الرحمن  ہے ، یہ روایت کرنے میں متفر د نہیں  بلکہ  جسر بن فرقد نے ثابت سے روایت کرنے میں ان کی متابعت کی ہے امام احمد نے اسے روایت کیا ہے ، اور اس کے کثیر شواہد  گزر چکے ہیں جو اس کو تقویت دیتے ہیں ۔ (الامالی المطلقۃ  ، لابن حجر ، تیراسیویں املاء ،  ص : 46، الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت ، الطبعة: الأولى، 1416 هـ -1995 م)
  • امام احمد بن علی بن محمد ، ابو الفضل شہاب الدین ابن الحجر  العسقلانی (متوفی : 852ھ )  اپنی کتاب ” لسان المیزان ”  میں محتسب بن عبد الرحمن  ابو عائذ  کے ترجمہ میں  فرماتے ہیں کہ : وهذا الحديث قد تابعه عليه جسر بن فرقد أخرجه أحمد من طريقه وللمتن شاهد من حديث أبي أمامة أخرجه أحمد والطبراني وأبو يعلى من رواية أيمن عنه وبقية رجاله رجال الصحيح.ترجمہ :  اور اس حدیث پر  جسر بن فرقد نے ان کی متابعت کی ہے ، امام احمد نے اسے اس کے طریق سے روایت کیا ہے ، اور متن کا شاہد  حدیث ابو امامہ ہے جسے امام احمد  اور طبرانی اور ابو یعلی نے  ایمن کے ان سے روایت کرنے کے طریق سے  روایت کیا ہے ، اور اس کے بقیہ رجال  صحیح کے رجال ہیں ۔  (لسان المیزان ، لابن حجر ،   حرف المیم ، 5/18، رقم الترجمۃ : 65، الناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات بيروت – لبنان ، الطبعة: الثانية، 1390 هـ – 1971 م)
  • امام محمد عبد الروف   بن تاج العارفین  بن علی ، زین الدین   المناوی القاھری  ( متوفی : 1031ھ )  جامع الصغیر کی شرح فیض القدیر  میں فرماتے ہیں کہ : قال الحاكم: صحيح فتعقبه الذهبي بأن فيه جميع بن ثوب واه وقال الهيثمي بعد ما عزاه لأحمد: وفيه من لم أعرفه وقال مرة أخرى: إسناد أحمد ضعيف۔ ترجمہ :  امام حاکم فرماتے ہیں کہ :  صحیح ہے  ۔ تو امام ذہبی نے  ان کا تعقب کیا  کہ اس میں  جمیع بن ثوب  واہی ہیں ، امام ہیثمی نے اس کی نسبت امام احمد کی جانب کرنے کے بعد فرمایا:  اور اس میں وہ شخص ہے جسے میں نہیں جانتا ، دوسری مرتبہ فرمایا:  امام احمد کی سند ضعیف ہے  ۔  (فیض القدیر   شرح  جامع الصغیر للمناوی،  حرف الطاء ، 4/279، رقم الحدیث : 5301، الناشر: المكتبة التجارية الكبرى – مصر ، الطبعة: الأولى، 1356)
  • امام محمد بن محمد ، نجم الدین الغزی  العامری القرشی  (متوفی : 1061ھ ) اپنی کتاب ” حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ ” میں فرماتے ہیں کہ: ” رواه الإمام أحمد في “مسنده” من حديث أنس رضي الله تعالى عنه. وهو والبخاري في “تاريخه”، وابن حبان في “صحيحه”، والحاكم في “مستدركه” من حديث أبي أمامة رضي الله تعالى عنهما (2). وروى الإمام إسحاق بن راهويه، والحافظ سعيد بن منصور – بإسناد صحيح كما قال الحافظ أبو الفضل بن حجر العسقلاني۔ ترجمہ : اس حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند میں  حدیث انس سے روایت کیا ، وہ اور بخاری نے اپنی تاریخ میں ، اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں ، اور حاکم نے اپنی مستدرک میں  حدیث ابو امامہ سے روایت کیا ،  اور امام اسحاق بن راہویہ نے  اور حافظ  سعید بن منصور نے  -سند صحیح کے ساتھ روایت کیا   جیسا کہ حافظ  ابو الفضل  ابن حجر  العسقلانی نے کہا –  (حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ ، تتمة لما سبق، وتوضيح، 1/83، الناشر: دار النوادر، سوريا ، الطبعة: الأولى، 1432 هـ – 2011 م)

تحکیم آئمہ میں حکم حدیث کی اقسام 

آئمہ کرام کی اس تحکیم میں ہم نظر کرتے ہیں تو ہمیں اس حدیث کے بارے میں تین قسم کے حکم ملتے ہیں : 1-صحیح ، 2-حسن ، 3-ضعیف

پہلی قسم کے قائلیں

  • امام محمد بن محمد ، نجم الدین الغزی  العامری القرشی  (متوفی : 1061ھ )
  • امام ابو حاتم محمد بن حبان التمیمی  (متوفی: 354ھ )
  • امام احمد بن ابی بکر بن اسماعیل البوصیری
  • امام علی بن ابی بکر بن سلیمان  ، ابو الحسن نور الدین ا لہیثمی   (متوفی : 807ھ) 

دوسری قسم یعنی حسن کے قائلین

  • امام احمد بن علی بن محمد ، ابو الفضل شہاب الدین ابن الحجر  العسقلانی (متوفی : 852ھ ) 

تیسری قسم یعنی ضعیف ہونے کے قائلین

امام ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ

  • امام محمد بن طاہر بن علی ، ابو الفضل المقدسی الشیبانی  المعروف بابن القیسرانی     (متوفی :507 ھ )
  • امام شمس الدین حافظ  محمد بن عثمان بن قائماز الذہبی (متوفی :748 ھ )
  • امام عبد الرحیم بن الحسین بن عبد الرحمن  ، زین الدین ابو الفضل العراقی  (متوفی : 806ھ) 
  • امام محمد عبد الروف   بن تاج العارفین  بن علی ، زین الدین   المناوی القاھری  ( متوفی : 1031ھ ) 

تجزیہ

  • ان تینوں قسم کے احکام میں جب ہم نظر کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جن آئمہ کرام نے تضعیف کا حکم لگایا ہے وہ بربنائے سند واحد کے ہے  ، کیونکہ ان تمام نے کسی نہ کسی راوی کی علت بتاتے ہوئے ضعف کا اشارہ فرمایا ہے  اور وہ ضعف  اسی خاص سند کے اعتبار سے ہے ۔ اور جن آئمہ کرام نے  صحت کا حکم دیا ہے وہ صحت دو قسم  ہو سکتی ہے ۔ 1-صحت  لغیرہ ، 2- صحت برقول متقدمین  ۔ جہاں تک حافظ ابن حجر عسقلانی کا قول حسن کا ہے تو اس میں دو احتمال ہیں : 1-حسن لغیرہ ، 2-حسن لذاتہ ۔

توضیح  و تحلیل و تحکیم

  • صحت لغیرہ تو واضح ہے کہ مجموعہ طرق کے اعتبار سے حدیث صحیح لغیرہ تک ترقی پا گئی ہے ۔ لیکن صحت بر قول متقدمین  حسن کو بھی شامل تھی ، اگر  متقدمین کے مذہب پر  صحت مانیں تو حافظ ابن حجر اور دیگر آئمہ کے قول میں تضاد نہیں بلکہ اتفاق ہے ۔ اور اگر صحیح لغیرہ مانیں تو تضاد ہے ۔ اسی طرح  حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ  نے جو حسن کا قول کیا ہے اگر اسے حسن لذاتہ پر محمول کریں  تو معلوم ہوتا ہے کہ  حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے حکم سند واحد کے اعتبار سے فرمایا ہے ، اور اگر  حسن لغیرہ پر محمول کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ  حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے  ایمن اور  محتسب اور جسر کو ضعیف ہی شمار کیا ہے  اور ان کے  مجموعہ کو ترقی دی ہے ۔  لیکن اگر ایسا ہےتو یہ درست نہیں  بلکہ درست یہی ہے کہ یہ حدیث  صحیح لغیرہ ہے اور متقدمین کے قول پر صحیح لذاتہ   کے ادنی مراتب سے ہے ،  کیونکہ ایمن کی ثقاہت  امام ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرما دی ہے ، اور محتسب کو  جسر کی  متابعت بھی حاصل ہے ۔ اب وجہ ضعف باقی نہیں    لہذا حدیث  صحیح لغیرہ  کے مرتبہ کو پہنچتی ہے ۔

          ازقلم: قاسم چوہدری
بروز منگل 20/01/2026