مجتہد کے استدلال سے حدیث ضعیف قوی ہوجاتی ہے (Mujtahid ke istidlal se Hadees Za’eef Qawi Ho Jati Hai)
༺❁ مجتہد کے استدلال سے حدیث ضعیف قوی ہوجاتی ہے❁༻
Sr No. 01/02 Date: 22/08/2026
سوال: کیا مجتہد کے استدلال سے حدیث ضعیف قوی ہو جاتی ہے ؟
جواب: جی ہاں! مجتہد کے استدلال سے حدیث ضعیف قوی ہو جاتی ہے۔
محدثین نے تصریح کی ہے کہ اہل علم کے عمل سے حدیث ضعیف قوی ہو جاتی ہے۔
جیسا کہ مرقاۃ جلد ثانی ص: ۱۰۲ پر ہے :
قال النووی: و اسناده ضعيف نقله ميرك فكان الترمذى يريد تقوية الحديث بعمل اهل العلم
ترجمہ: علامہ نووی نے فرمایا اس کی سند ضعیف ہے اس کو میرک نے نقل کیا۔ اس قول سے امام ترمذی کی مراد یہ ہے کہ اہل علم کے عمل سے حدیث ضعیف قوی ہو جاتی ہے۔
اسی طرح مجتہد کسی حدیث سے استدلال کرلے تو یہ اس کی دلیل ہے یہ حدیث صحیح ہے۔
ردالمحتار میں ہے:
ان المجتهد اذا استدل بحديث كان تصحيحا له كما في التحرير وغیرہ
ترجمہ: کسی حدیث سے مجتہد کا استدلال اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے جیسا کہ تحریر وغیرہ میں ہے۔
مجتہد کی استدال سے حدیث کے قوی ہونے پر سوال
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حدیث جب ضعیف ہے تو مجتہد کے استدلال کی وجہ سے وہ قوی کیسے ہو جاتی ہے، آخر راوی کا ضعف کیوں کر دور ہوگا ؟
اس سوال کی وضاحت حضرت شارح بخاری رحمہ اللہ نے ان الفاظ میں فرمائیں :
اس میں راز یہ ہے کہ حدیث میں سند کی وجہ سے جو ضعف ہوتا ہے وہ راوی کے مجروح ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کسی حدیث کے ضعیف کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس مخصوص سند سے ضعیف ہے اور ایک حدیث کئی کئی سندوں کے ساتھ مروی ہوتی ہے مجتہد نے جب اس حدیث کو دلیل بنایا تو یہ اس پر قرینہ ہے کہ اسے ایسی سند کے ساتھ ملی ہے جس میں کوئی ضعف نہیں۔
اس کا بھی امکان ہے کہ جس راوی کی وجہ سے حدیث کو ضعیف کہا گیا ہے وہ بعد کا ہو اور مجتہد جس نے اس حدیث کو دلیل بنایا وہ پہلے کا ہے تو بالکل ظاہر ہے کہ اسے یہ حدیث اس مجروح راوی کے توسط کے بغیر ملی ہے۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے جب یہ فرمایا: “اذا صح ا الحديث فهو مذهبی “ تو اس کا امکان ہی نہیں کہ وہ کسی ضعیف حدیث کو مذہب بنائیں ۔
(فتاوی شارح بخاری، جلد ۱، ص ۵۲،۵۳)
