تحقیق :مسئلہ باغ فدک

تحقیق :مسئلہ باغ فدک

مسئلہ: از عبدالحق قادری غوثیہ منزل منڈی حویلی پونچھ (جموں کشمیر)

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رافضی لوگ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ فدک حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو دیا تھا جسے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں غصب کر لیا اور حضور کا فرمان ہے کہ جس نے فاطمہ کو ستایا اس نے مجھ کو ستایا تو اس حدیث شریف کی روشنی میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا کیا حال ہے؟

الجواب

بعون الملک العزیز الوھاب۔ بعض حصۂ زمین جو کفار نے مغلوب ہو کر بغیر لڑائی کے مسلمانوں کے حوالے کر دیا تھا ان میں سے ایک فدک بھی تھا جس کی آمدنی حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل و عیال ازواج مطہرات وغیرہ پر صرف فرماتے تھے اور تمام بنی ہاشم کو بھی اس کی آمدنی سے کچھ مرحمت فرماتے تھے۔ مہمان اور بادشاہوں کے سفراء کی مہمان نوازی بھی اس آمدنی سے ہوتی تھی۔ اس سے غریبوں اور یتیموں کی امداد بھی فرماتے تھے۔ جہاد کے لیے سامان تلوار، اونٹ اور گھوڑے وغیرہ اسی سے خریدے جاتے تھے اور اصحاب صفہ کی حاجتیں بھی اس سے پوری فرماتے تھے۔ ظاہر ہے کہ فدک اور اس قسم کی دوسری زمینوں کی آمدنی مذکورہ بالا تمام مصارف کے مقابلہ میں بہت کمی تھی اسی سبب سے بنی ہاشم کا جو وظیفہ حضور نے  مقرر فرما دیا تھا وہ زیادہ نہیں تھا اور سیّدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا جو حضور کو حد سے زیادہ پیاری تھیں مگر آپ کی بھی پوری کفالت نہیں فرماتے تھے جس سے ثابت ہوا کہ اس قسم کی زمینوں کی آمدنی مخصوص مدوں میں حضور صرف فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا مال اسی کی راہ میں خرچ فرماتے تھے آپ نے ان کو ذاتی ملکیت نہیں قرار دیا تھا۔

پھر جب سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بھی فدک کی آمدنی کو انہیں تمام مدوں میں خرچ کیا جن میں حضور خرچ فرمایا کرتے تھے۔ فدک کی آمدنی خلفائے اربعہ کے زمانہ تک اسی طرح صرف ہوتی رہی۔ یعنی حضرت ابوبکر صدیق ‘حضرت عمر فاروق‘ حضرت عثمان غنی اور حضرت مولیٰ علی رضوان اللہ علیہم اجمعین سب نے فدک کی آمدنی کو انہیں مدوں میں خرچ کیا جن میں حضور خرچ کیا کرتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد باغ فدک حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے قبضہ میں رہا پھر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے اختیار میں رہا۔ ان کے بعد حضرت علی بن حسین اور حسن بن حسن کے ہاتھ آیا۔ ان کے بعد حضرت زید بن حسن بن علی برادر حضرت حسن بن حسن کے تصرف میں آیا رضی اللہ عنہم۔ پھر مروان اور مروانیوں کے اختیار میں رہا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خلافت کا زمانہ آیا تو انہوں نے باغ فدک حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کی اولاد کے قبضہ و تصرف میں دے دیا۔ باغ فدک کی اس تاریخ سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ معاملہ کچھ بھی نہ تھا مگر لوگوں نے بلاوجہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر الزام لگا کر ان کو مطعون کیا۔

“حضور نے باغ فدک حضرت فاطمہ کو نہیں دیا تھا”

یہ کہنا صحیح نہیں کہ باغ فدک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا۔ یہ رافضیوں کا افتراء ہے جس کا جواب دینا ہم پر لازم نہیں۔ یعنی اہل سنت کی معتبر کتابوں سے باغ فدک کا دینا ثابت نہیں بلکہ ساری کتابوں سے حضور کا حضرت سیّدہ کو باغ فدک کا نہ دینا ثابت ہے جیسا کہ مشہور و معروف کتاب ابوداؤد شریف کی حدیث ہے:

عن المغیرۃ قال ان عمر بن عبدالعزیز جمع بنی مروان حین استخلف فقال ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کانت لہ فدک ینفق منھا ویعودمنھا علیٰ صغیر بنی ھاشم و یزوج منھا ائمھم وان فاطمۃ سالتہ ان یجعلھا لھا فابٰی فکانت کذٰلک فی حیوۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتی مضی لسبیلہ فلما ان ولی ابوبکر عمل فیھا بما عمل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی حیوتہ حی مضی لسبیلہ فلما ان ولی عمر بن الخطاب عمل فیھا بمشل ماعملا حتی مضی لسبیلہ ثم اقطعھا مروان ثم صارف لعمر بن عبدالعزیز فرایت امراء منعہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاطمۃ لیس لی بحق وانی اشھد کم انی رددتھا علیٰ ماکانت یعنی علی عہد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وابی بکر و عمر۔

ترجمہ” حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبداالعزیز رضی اللہ عنہ کی خلافت کا جب زمانہ آیا تو انہوں نے بنی مروان کو جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جس کی آمدنی وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے تھے اور بنی ہاشم کے بچوں کو پہنچاتے تھے اور اس سے مجرد مرد و عورت کا نکاح بھی کرتے تھے ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضور سے سوال کیا کہ فدک ان ہی کے لئے مقرر کر دیں تو حضور نے انکار کر دیا تو ایسے ہی آپ کی زندگی بھر رہا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی پھر جب حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے تو انہوں نے فدک میں ویسا ہی کیا جیسا کہ حضور نے کیا تھا یہاں تک کہ وہ بھی رحلت فرما گئے پھر جب حضرت عمر خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ویسا ہی کیا جیسا کہ حضور اور ابوبکر نے کیا تھا یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے۔ پھر مروان نے (اپنے دور میں) فدک کواپنی جاگیرمیں لے لیا یہاں تک کہ وہ عمر بن عبدالعزیز کی جاگیر بنا۔ پس میں نے دیکھا کہ جس چیز کو حضور نے اپنی بیٹی فاطمہ کو نہیں دیا اس پر میرا حق کیسے ہو سکتا ہے؟ لہٰذا میں آپ لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے فدک کو اسی دستور پر واپس کر دیا جس دستور پر کہ وہ پہلے تھا یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانۂ مبارک میں۔

(مشکوٰۃ شریف ص ۳۵۶)

اس حدیث شریف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت سیّدہ کو باغ فدک کا نہ دینا واضح طور پر ثابت ہے بلکہ شرح ابن الحدید جو رافضیوں کی معتبر مذہبی کتاب نہج البلاغۃ کی شرح ہے اس میں ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:

“قال لھا ابوبکر لما طلبت فدک بابی وامی انت الصادقۃ الامینۃ عندی ان کان رسول اللّٰہ عھد الیک عھد اووعدک وعدا صدقتک وسلمت الیک فقالت لم یعھدی الی فی ذٰلک۔”

جب فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا نے فدک طلب کیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ میرے نزدیک صادقہ امینہ ہیں‘ اگر حضور نے آپ کے لئے فدک کی وصیت کی ہو یا وعدہ کیا ہو تو اسے میں تسلیم کرتا ہوں اور فدک آپ کے حوالے کر دیتا ہوں تو سیّدہ نے فرمایا کہ فدک کے معاملہ میں حضور نے میرے لئے کوئی وصیت نہیں فرمائی ہے۔

اس روایت سے بھی معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت سیّدہ کو باغ فدک دینے کا جو افسانہ بنایا گیا ہے وہ صحیح نہیں اس لئے کہ حضرت سیّدہ خود فرما رہی ہیں کہ حضور نے فدک کے لئے میرے بارے میں کوئی وصیت نہیں کی ہے‘ اور نہ وعدہ فرمایا ہے۔ لہٰذا جب حضور نے باغ فدک حضرت سیّدہ کو دیا نہیں اور دینے کا وعدہ بھی نہیں فرمایا اور نہ وصیت فرمائی تو پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غصب کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا‘ اور اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہ کو فدک ہبہ کر دیا تھا تو یہ مسئلہ رافضی و سنی دونوں کے یہاں متفقہ طور پر مسلم ہے کہ ہبہ کی ہوئی چیز پر تاوقتیکہ موہوب لہ یعنی جس کو ہبہ کیا گیا ہے اس کا قبضہ و تصرف نہ ہو جائے وہ چیز موہوب لہ کی ملک نہیں ہو سکتی اور فدک بالاتفاق حضور کی ظاہری حیات میں کبھی حضرت سیّدہ کے قبضہ میں نہیں آیا بلکہ حضور ہی کے اختیار میں رہا اور آپ ہی اس میں مالکانہ تصرف فرماتے رہے۔

حضور نے کوئی وراثت نہیں چھوڑی”

“اگر یہ کہا جائے کہ حضور نے اپنی ظاہری حیات میں حضرت سیّدہ کو فدک نہیں دیا تھا تو ہم نے یہ تسلیم کر لیا لیکن جب و ہ حضور کی صاحبزادی تھیں تو فدک حضرت سیّدہ کو وراثت میں ضرور ملنا چاہئے تھا کہ ہر شخص اپنے باپ کی جائیداد کا وارث ہوتا ہے اور حضرت سیّدہ حضور کی وارث نہ ہوں یہ کہاں کا انصاف ہے؟ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتہا درجہ کے فیاض تھے جو کچھ آتا تھا سب غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم فرما دیتے تھے۔ کچھ اپنے پاس باقی نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ حضور ایک بار نماز عصر پڑھ کر فوراً اٹھے اور نہایت تیزی کے ساتھ گھر تشریف لے گئے پھر علی الفور واپس آ گئے لوگوں کو تعجب ہوا تو فرمایا: مجھے خیال آیا کہ سونے کی ایک چیز گھر میں پڑی رہ گئی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ رات ہو جائے اور وہ گھر میں پڑی رہ جائے اس لئے میں اسے خیرات کرنے کے لئے کہہ آیا ہوں۔

 (رواہ البخاری، مشکوٰۃ ص ۱۶۶)

اور حدیث شریف میں ہے آخری بیماری میں حضور کی ملکیت میں چھ سات اشرفیاں تھیں۔ حضور نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم فرمایاکہ اسے خیرات کر یں مگر وہ مشغولیت کے سبب خیرات نہ کرسکیں تو حضور نے ان اشرفیوں کو منگا کر خیرات کر دیا اور فرمایا:”

” ماظن نبی اللّٰہ لولقی اللّٰہ عزوجل وھٰذہ عندہ “

(رواہ احمد مشکوٰۃ ص ۱۶۷)

یعنی اللہ کا نبی خداتعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اشرفیاں اس کے قبضہ میں ہوں تو یہ مقام نبوت کے منافی ہے۔ (اشعۃ اللمعات جلد دوم ص ۴۸) جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ انہوں نے اپنی ذاتی ملکیت میں کوئی چیز چھوڑی ہی نہیں تو ایسی صورت میں وراثت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اس لئے کہ وراثت اس چیز میں جاری ہوتی ہے جو مورث کی ملکیت ہو اور سرکار اقدس نے ایسا کوئی مال چھوڑا ہی نہیں‘ اور ازواج مطہرات جو اپنے حجروں کی مالک ہوئیں تو وہ بطور میراث ان کو نہیں ملے تھے بلکہ حضور نے اپنی ظاہری حیات میں ایک ایک حجرہ بنوا کر ان کو ہبہ کر دیا تھا اور اسی زمانہ میں انہوں نے اپنے اپنے حجروں پر قبضہ بھی کر لیا تھا اور ہبہ جب قبضہ کے ساتھ ہو تو ملکیت ثابت ہو جاتی ہے جیسے کہ حضور نے حضرت فاطمہ کے لئے بھی گھر بنوا کر ان کے قبضہ میں دے دیا تھا جو ان کی ملکیت تھا اور پھر فدک مال فئی سے تھا اسی لئے محدثین کرام فدک کی حدیث کو باب الفئی میں لائے ہیں اور فئی کسی کی ملکیت نہیں ہوتا اس کے مصارف کو خداتعالیٰ نے قرآن مجید میں خود بیان فرمایا ہے:

” مَآ اَفَآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلَ۔ “

جو فئی دلایا اللہ نے اپنے رسول کو شہر والوں سے وہ اللہ اور رسول کا ہے‘ اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں ور مسافروں کے لئے ہے۔ (پ ۲۸ ع ۴)

اور مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد چہارم ص ۳۱۳ پر مُغرب سے ہے:

“حکمہ ان یکون لکافۃ المسلمین  “

فئی کا حکم یہ ہے کہ وہ عام مسلمانوں کے لئے ہے‘ اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: ’’حکم فئی آنست کہ مرعامہ مسلمانان رامی باشد و دروے خمس وقسمت نیست و اختیار آں بدست آنحضرت ست۔‘‘

 فئی کا حکم یہ ہے کہ وہ عام مسلمانوں کے لئے ہے اس میں خمس و تقسیم نہیں ہے‘ اور اس کی تولیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے۔                                                                                                   (اشعۃ ج ۳‘ ص ۴۴۶)

معلوم ہوا مال فئی وقف ہوتا ہے کسی کی ملکیت نہیں ہوتا۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فدک کی آمدنی کو قرآن کی تصریح کے  مطابق اپنی ذات پر۔ ازواج مطہرات اور بنی ہاشم پر اورغریبوں، مسکینوں اور مسافروں پر خرچ فرما دیتے تھے جو اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ فدک کسی کی ملکیت نہیں تھا بلکہ وقف تھا اور مال وقف میں میراث جاری ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

“انبیائے کرام کسی کو مال کا وارث نہیں بناتے”

اگر فدک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت ما ن بھی لیا جائے پھر بھی اس میں وراثت نہیں جاری ہو گی بلکہ وہ صدقہ ہے جیسا کہ بخاری و مسلم میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

” قال رسول اللّٰہ علیہ وسلم لانورث ماترکناہ صدقۃ۔”

حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ ہم (گروہ انبیاء) کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہے۔

(مشکوٰۃ ص ۵۵۰)

 اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور کے وصال فرما جانے کے بعد ازواج مطہرات نے چاہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ حضور کے مال سے اپنا حصہ تقسیم کروائیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: “

“الیس قد قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لانورث ماترکناہ صدقۃ۔ “

کیا حضور نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ ہم کسی کو اپنے مال کا وارث نہیں بناتے جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے۔

(مسلم شریف جلد دوم ص ۹۱)

جب حضرت عائشہ نے ازواج مطہرات کو یہ حدیث شریف سنائی تو انہوں نے میراث طلب کرنے کا ارادہ ختم کر دیا‘ اور حضرت عمرو بن الحارث رضی اللہ عنہ جو حضرت جویریہ زوجۂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی تھے انہوں نے فرمایا:

” ماترک رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عند موتہ دیناراً اولادرھماً ولاعبداً ولاامۃ ولاشیئا الا بغلتہ البیضاء وسلاحہ وارضا جعلھا صدقۃ۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے وقت درہم و دینار اور غلام و باندی کچھ نہیں چھوڑا مگر ایک سفید خچر، اپنا ہتھیار اور کچھ زمین جس کو حضور نے صدقہ کر دیا تھا۔

(رواہ البخاری مشکوٰۃ ص ۵۵)

اور بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

” ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لایقتسم ورثتی دیناراً ماترکت بعد نفقۃ نسائی ومؤنۃ عاملی فھو صدقۃ۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے وارث ایک دینار بھی تقسیم نہیں کریں گے میں جو کچھ چھوڑ جاؤں میری ازواج کے مصارف اور عاملوں کا خرچ نکالنے کے بعد جو بچے وہ صدقہ ہے۔

 (مشکوٰۃ شریف ص ۵۵۰)

اور بخاری و مسلم میں حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجمع صحابہ جن میں حضرت عباس، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر بن العوام اور حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سب کو قسم دے کر فرمایا: کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ حضور نے فرمایا کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے؟ تو سب نے اقرار کیا کہ ہاں حضور نے ایسا فرمایا ہے حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں:”

“انشدکم باللّٰہ الذی باذنہ تقوم السماء والارض ھل تعلمون ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لانورث ماترکنا صدقۃ قالوا قد قال ذٰلک فاقبل “

“عمر علیٰ علی و عباس فقال انشد کما باللّٰہ ھل تعلمان ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قد قال ذٰلک قالانعم۔”

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کو خداتعالیٰ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ہم جو چھوڑیں وہ صدقہ ہے؟ تو ان لوگوں نے کہا: بے شک حضور نے ایسا فرمایا ہے پھر وہ حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں آپ دونوں کو خداتعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ حضور نے ایسا فرمایا ہے؟ تو ان لوگوں نے بھی کہا کہ ہاں حضور نے ایسا فرمایا ہے (بخاری ج ۲‘ ص ۵۷۵ مسلم ج ۲‘ ص ۹۰) ان احادیث کریمہ کے صحیح ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ آیا اور حضور کا ترکہ خیبر اور فدک وغیرہ ان کے قبضہ میں ہوا اور پھر ان کے بعد حسنین کریمین وغیرہ کے اختیار میں رہا تو ان میں سے کسی نے ازواج مطہرات حضرت عباس اور ان کی اولاد کو باغ فدک وغیرہ سے حصہ نہ دیا‘ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ نبی کے ترکہ میں وراثت جاری نہیں ہوتی‘ ورنہ یہ تمام بزرگوار جو رافضیوں کے نزدیک معصوم اور اہلسنّت کے نزدیک محفوظ ہیں حضرت عباس اور ازواج مطہرات کی حق تلقی جائز نہ رکھتے۔

ان تمام شواہد سے خوب واضح ہو گیا کہ انبیائے کرام کے ترکہ میں وراثت نہیں جاری ہوتی اسی لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیّدہ کو باغ فدک نہیں دیا ‘نہ کہ بغض و عداوت کے سبب‘ جیسا کہ رافضیوں کا الزام ہے اس لئے کہ اگر حضرت سیّدہ سے ان کو دشمنی تھی تو ازواج مطہرات کو حضور کے ترکے سے حصہ پہنچتا تو ان سے اور ان کے باپ بھائی وغیرہ متعلقین سے کیا عداوت تھی کہ ان سب کو محروم المیراث کر دیا جبکہ حضرت عائشہ صدیقہ ان کی صاحبزادی بھی ازواج مطہرات میں سے تھیں بلکہ حضرت عباس حضور کے چچا اور حضرت ابوبکر کے ابتدائے خلافت سے مشیر و رفیق تھے جن کو تقریباً نصف ترکہ ملتا تھا وہ کس دشمنی کے سبب وراثت سے محروم ہو ئے؟ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارشاد رسول: لانورث ماترکتہ صدقۃ کے سبب حضرت سیّدہ کو فدک نہ دیا کہ حدیث پر عمل کرنا ان پر لازم تھا۔ اس لئے کہ کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت سیّدہ کو خوش کرنے کے لئے انہیں حدیث کوپس پشت ڈال دینا چاہئے تھا اور ارشاد رسول پر انہیں عمل نہیں کرنا چاہئے تھا‘ اور جب حضرت ابوبکر صدیق نے حدیث رسول پر عمل کیا تو ان پر الزام کیا ہے جبکہ روایت کہ حضرت انبیاء کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے رافضیوں کی معتبر کتابوں سے بھی ثابت ہے جیسا کہ اصول کافی باب العلم و المتعلم میں ہے:

“عن ابی عبداللّٰہ علیہ السلام قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان العلماء ورثۃ الانبیاء وا ن الانبیاء لم یورثوا دیناراً ولادرھما ولٰکن اور ثوا العلم فمن اخذہ منہ اخذبحظ وافر۔”

 ابوعبداللہ حضرت امام جعفرصادق سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علمائے دین انبیائے کرام کے وارث ہیں اس لئے کہ ابنیائے کرام کسی شخص کو درہم و دنیار کا وارث نہیں بتاتے تو جس شخص نے علم دین حاصل کیا اس سے بہت کچھ حاصل کیا۔ اور اسی کتاب اصول کافی کے باب صفتہ العلم میں ہے۔

” عن ابی عبداللّٰہ علیہ السلام ان العلماء ورثۃ الانبیاء وذٰلک ان الانبیاء لم یورثوا درھما ولادیناراً وانما اور ثوا احادیث من احادیثھم فمن اخذہ “

“بشیء منھا فقد اخذ حظا وافرا۔”

حضرت ابوعبداللہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ علمائے کرام انبیائے عظام کے وارث ہیں اور یہ اس لئے کہ حضرات انبیائے کرام نے کسی کو دراہم و دینار کا وارث نہیں بنایا‘ انہوں نے تو صرف اپنی باتوں کا وارث بنایا‘ تو جس شخص نے ان کی باتوں کو حاصل کر لیا اس نے بہت کچھ حاصل کیا۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ جو رافضیوں کے نزدیک معصوم ہیں اور اہلسنّت کے نزدیک محفوظ ہیں۔ ان کی روایتوں سے بھی ثابت ہو گیا کہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی میراث صرف علم شریعت ہی ہے وہ درہم و دینار اور مال و اسباب کا کسی کو وارث نہیں بناتے اور جب یہ بات رافضیوں کی روایات سے بھی ثابت ہے تو پھر سیّد الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم نہ کرنے کے سبب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر فدک کے غصب کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا‘ اور یہیں سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ وَوَرِثَ سُلَیْمَانَ دَاؤٗدَ وغیرہ قرآن و حدیث میں جہاں بھی انبیائے کرام کی وراثت کا ذکر ہے اس سے علم شریعت و نبوت مراد ہے نہ کہ درہم و دینار۔

اور بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں میراث نہ جاری ہوتی تو حضرت ابوبکر حضرت علی کو حضور کی تلوار‘ زرہ اور دلدل وغیرہ کیوں دیتے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت علی کو حضور کی تلوار وغیرہ کا دینا اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ حضور کے ترکہ میں میراث نہیں۔ اس لئے کہ حضرت علی حضور کے وارث نہ تھے۔ اگر حضور کے ترکہ کے وارث ہوتے تو صرف حضرت فاطمہ زہراء، ازواج مطہرات اور حضرت عباس ہوتے نہ کہ حضرت علی (رضی اللہ عنہم) مگر چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مال وفات کے بعد عامۂ مسلمین کے لئے وقف کا حکم رکھتا ہے اس لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان چیزوں کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو زیادہ لائق سمجھا تو ان کے لئے مخصوص کر دیا اور بعض چیزیں حضرت زبیر بن العوام اور حضرت محمد بن مسلمہ انصاری کو بھی دیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں میراث نہیں۔

“حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ کو نہیں ستایا (رضی اللہ عنہما)

“بیشک جس نے فاطمہ کو ستایا اس نے حضور کو ستایا اور جس نے فاطمہ کو ایذا دی اس نے حضور کو وایذا دی اس مضمون کی حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں:

” قال فاطمۃ بضعۃ منی فمن اغضبھا اغضبنی وفی روایۃ یریبنی ما ارابھا ویوذینی مااذاھا۔ “

سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے تو جو شخص اس کو غضب میں لایا وہ مجھ کو غضب میں لایا‘ اور ایک روایت میں ہے کہ جو چیز مجھ کو اضطراب میں ڈالتی ہے جو چیز فاطمہ کو اضطراب میں ڈالتی ہے‘ اور جو چیز مجھ کو تکلیف دیتی ہے وہ چیز اس کو تکلیف دیتی ہے۔                                                                 (بخاری- مسلم مشکوٰۃ ص ۵۶۷)

یہ حدیث شریف حق ہے جس سے کسی مسلمان کو انکارنہیں ہو سکتا لیکن یہ سمجھنا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیّدہ کو ستایا یہ غلط ہے۔ ستانے کا مفہوم کیا ہے؟ جب حضرت سیّدہ نے حضرت ابوبکر سے فدک کا مطالبہ کیا تو انہوں نے وہ حدیث شریف سنائی کہ جس کی تصدیق بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ یہاں تک کہ حضرت علی بھی کرتے ہیں تو حضرت سیّدہ خاموش ہو گئیں کیا حدیث سنانا اور اس پر عمل کرنا سیّدہ فاطمہ کو ستانا ہے؟ کون مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ حدیث پر عمل کر کے مجھ کو ستایا گیا اور جب عام مسلمانوں کو حدیث رسول پر عمل کرنے سے تکلیف نہیں پہنچ سکتی تو حضرت فاطمہ زہراء جو حضور کی لخت جگر اور نور نظر ہیں ان کو حضور کی حدیث پر عمل کرنے سے کیوں کر تکلیف پہنچ سکتی ہے؟ اور اگر یہ بات مان لی جائے کہ حضرت سیّدہ کو حدیث رسول پر عمل کرنے کے سبب تکلیف پہنچی جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے تو خود حضرت سیّدہ پر الزام آتا ہے کہ ان کو حدیث رسول سے تکلیف پہنچی اور یہ بات سیّدہ کی ذات سے ناممکن ہے۔ ہاں بخاری شریف کی بعض روایتوں میں حضرت سیّدہ اور حضرت ابوبکر کے سوال و جواب کو نقل کرنے کے بعد حدیث کے راوی نے اپنے خیال کو اس طرح ظاہر کیا ہے:”

 حضرت فاطمہ ناراض ہو گئیں اور انہوں نے حضرت ابوبکر کو چھوڑے رکھا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی اور حضرت فاطمہ حضور کے بعد چھ ماہ باحیات رہیں۔ یہاں یہ بات خاص طو ر پر قابل توجہ ہے کہ یہ الفاظ حضرت سیّدہ کی زبان سے نہیں نکلے ہیں بلکہ یہ حدیث کے راوی کا اپنا ذاتی خیال ہے جس کو انہوں نے اپنے لفظوں میں بیان کیا ہے یعنی حضرت ابوبکر کی شکایت کسی روایت میں حضرت سیّدہ کی زبان سے ثابت نہیں ہے ‘نہ کوئی حدیث کا راوی یہ کہتا ہے کہ ہم نے حضرت ابوبکر کی شکایت جناب سیّدہ سے سنی ہے‘ اور چونکہ ناراضگی دل کا فعل ہے اس لئے جب تک اس کو زبان سے ظاہر نہ کیا جائے دوسرے شخص کو اس کی خبر نہیں ہو سکتی البتہ آثار و قرائن سے دوسرے لوگ قیاس کرتے ہیں مگر ایسے قیاس میں غلطی ہو جانے کا بہت امکان ہے جیسے کہ ایک بار بہت سے صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت نشینی سے یہ نتیجہ نکالا کہ حضور نے ازواج مطہرات کو طلاق دیدی ہے مگر جب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضور سے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ طلاق نہیں دی ہے۔ اسی طرح فدک کے معاملہ میں بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت سیّدہ کی خاموشی اور ترک کلام سے راوی نے یہ سمجھ لیا کہ حضرت سیّدہ ناراض ہیں حالانکہ یہ بات نہیں کہ ناراضگی ہی ترک کلام کا سبب ہو بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے والد گرامی کی حدیث سن کر وہ مطمئن ہو گئیں اس لئے پھر کبھی انہوں نے حضرت ابوبکر سے فدک کے معاملہ میں گفتگو نہیں کی‘ اور حضرت سیّدہ کے ناراض نہ ہونے کی ایک واضح دلیل یہ بھی ہے کہ وہ برابر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے گھر کے سارے اخراجات لیتی تھیں اور ان کی بیوی حضرت اسماء بنت عمیس حضرت سیّدہ کی تیمارداری کرتی تھیں اگر واقعی حضرت سیّدہ ناراض ہوتیں تو ان کی اور ان کی بیوی کی خدمات وہ ہرگز قبول نہ فرماتیں اور پھر حضور نے یہ فرمایا:

” من اغضبھا اغضبنی “

یعنی جوشخص اپنے قول یا فعل سے قصداً فاطمہ کو غضب میں لائے اس کے لئے وعید ہے۔ اس لئے کہ اغضاب کے معنی یہی ہیں اور پہلے معلوم ہو چکا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کبھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غضب میں لانے اور ایذا پہنچانے کا قصد ہرگز نہیں کیا بلکہ وہ بارہا مقام عذر میں فرماتے رہے:

“یاابنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان قرابۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم احب الی من ان اصل قرابتی۔”

 قسم ہے خدا کی! اے رسول اللہ کی صاحبزادی! مجھے اپنی قرابت سے حضورکی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی زیادہ محبوب ہے‘ اور اگر حضرت سیّدہ کا غضب میں ہونا بمقتضائے بشریت مان بھی لیا جائے تو یہ ان کا اپنا فعل ہے حضرت ابوبکر پر کوئی الزام نہیں اس لئے کہ اغضاب یعنی قصداً غضب میں لانے پر وعید ہے نہ کہ غضب پر۔ ہاں اگر اس لفظ کے ساتھ وعید ہوتی کہ

“من غضبت علیہ غضبت علیہ “

یعنی جس پر فاطمہ غصہ ہوں گی تو اس پر میں غصہ ہوں گا‘ تو اس صورت میں البتہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر الزام عائد ہوتا مگر اس طرح کے الزام سے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی نہیں بچ سکتے۔ اس لئے کہ حضرت سیّدہ بارہا ان پر غصہ ہوئی ہیں جیسا کہ رافضیوں کی معتبر کتاب جلاء العیون ص ۱۸۶ پر ہے: ایک بار حضرت سیّدہ زہراء مولیٰ علی سے ناراض ہوئیں تو حسن و حسین اور ام کلثوم کو لے کر اپنے میکہ چلی گئیں بلکہ بعض مرتبہ اس قدر غصہ ہوتی تھیں کہ حضرت علی کو سخت وسست بھی کہہ دیا کرتی تھیں جیسا کہ رافضی مذہب کی مشہور کتاب حق الیقین کے ص ۲۳۳ پر ہے: حضرت سیّدہ نے ایک بار حضرت علی سے ناراض ہو کر یہ جملہ کہہ دیا ’’مانند جنین در رحم پردہ نشین شدہ و مثل خائباں در خانہ گریختہ‘‘ حمل کے بچہ کی طرح ماں کے پیٹ میں چھپ گئے اور نامردوں کی طرح گھر میں بیٹھ گئے۔

خلاصہ یہ ہے رافضی اور سنی دونوں کی معتبر کتابوں میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جن سے حضرت سیّدہ کا حضرت علی پر ناراض ہونا ثابت ہوتا ہے لیکن اس کا جواب یہی دیا جائے گا کہ ان کی ناراضگی حضرت علی سے وقتی اور عارضی ہوتی تھی پھر اس کے بعد آپ راضی بھی ہو جاتی تھیں تو ہم کہتے ہیں اوّل تو حضرت ابوبکر پر حضرت سیّدہ کی زبان سے ناراض ہونا ہی ثابت نہیں اور اگر حدیث شریف کے راوی کے خیال کو صحیح مان بھی لیا جائے تو یہ ناراضگی بھی عارضی اور وقتی تھی جیسا کہ رافضی اور سنی دونوں کی روایتوں سے ثابت ہے کہ مطالبہ فدک کے بعد حضرت سیّدہ نے حضرت ابوبکر سے بولنا چھوڑ دیا‘ تو آپ نے حضرت علی کو اپنا سفارشی بنایا۔ یہاں تک کہ حضرت زہراء آپ سے راضی ہو گئیں جیسا کہ سنیوں کی کتاب مدارج النبوۃ، کتاب الوفاء بیہقی اور شروح مشکوٰۃ میں یہ روایت موجود ہے‘ بلکہ محدث کبیر حضرت شیخ عبدالحق دہلوی بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مطالبہ فدک کے بعد حضرت سیّدہ کے گھر گئے اور دھوپ میں ان کے دروازہ پر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا ان سے راضی ہو گئیں۔

(اشعۃ اللمعات جلد سوم ص ۴۵۴)

 اور رافضیوں کی کتاب محجاج السالکین میں ہے:

“ان ابا بکر لما رأی ان فاطمۃ انقبضت عنہ وھجرتہ ولم تتکلم بعد ذٰلک فی امر فدک وکبر ذٰلک عند فاراد استرضاء ھا فاتا ھا فقال لھا صدقت یا ابنۃ رسول اللہ فیما ادعیت ولکنی رایت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقسمھا فیعطی الفقراء والمساکین و ابن السبیل جعل ان یوتی منھا قوتکم والصانعین بھا فقال افعل فیھا کما کان ابی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یفعل فیھا فقال ذٰلک اللہ علی ان افعل فیھا ماکان یفعل ابوک فقالت واللّٰہ لتفعلن فقال واللّٰہ لافعلن فقالت اللہ اشھد فرضیت بذٰلک واخذت العھد علیہ وکان ابوبکر یعطیھم منھا قوتھم ویقسم الباقی فیعطی الفقراء اوالمساکین وابن السبیل۔”

 بیشک جب حضرت ابوبکر نے دیکھا کہ فاطمہ مجھ سے تنگ دل ہو گئیں اور چھوڑ دیا اور فدک کے بارے میں بات کرنا ترک کر دیا تو یہ ان پر بہت گراں ہوا انہوں نے حضرت سیّدہ کو راضی کرنا چاہا تو ان کے پاس گئے اور کہا: اے رسول اللہ کی صاحبزادی! آپ نے جو کچھ دعویٰ کیا تھا سچا تھا لیکن میں نے حضور کو دیکھا کہ وہ فدک کی آمدنی کو فقیروں‘ مسکینوں اور اور مسافروں کو بانٹ دیتے تھے اسی میں سے آپ کو اور فدک میں کام کرنے والوں کو دیتے تھے تو حضرت سیّدہ نے کہا کہ کرو جیسا کہ میرے والد رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے تو حضرت ابوبکر نے کہا: قسم ہے خدا کی! میں آپ کے اوسطے وہ کام کروں گا جو آپ کے والد گرامی کرتے تھے تو حضرت سیّدہ نے کہا: قسم ہے خدا کی! آپ ضرور ایسا ہی کریں گے پھر حضرت ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم! میں ضرور کروں گا تو حضرت سیّدہ نے کہا: اے خدا! تو گواہ رہنا پھر حضرت سیّدہ راضی ہو گئیں اور حضرت ابوبکر سے عہد لیا اور وہ فدک کی آمدنی سے پہلے حضرت سیّدہ وغیرہا کو دیتے تھے پھر باقی فقیروں، مسکینوں اور مسافروں کو بانٹ دیتے تھے۔

“حضرت سیّدہ  رضی اللہ عنہما حضرت ابوبکر سے ناراض نہیں تھیں “

راضی لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کر دی تھی کہ حضرت ابوبکر میرے جنازہ میں شریک نہ ہوں اسی لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت سیّدہ کو رات ہی میں دفن کر دیا جس سے معلوم ہوا کہ سیّدہ ان سے راضی نہیں ہوئی تھیں اور ان لوگوں کے مابین صلح صفائی نہیں ہوئی تھی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہلسنّت کی معتبر کتابوں سے یہ ہرگز ثابت نہیں کہ حضرت فاطمہ زہراء نے یہ وصیت کی تھی کہ حضرت ابوبکر میرے جنازہ میں شریک نہ ہوں۔ یہ رافضیوں کا افتراء و بہتان ہے اس لئے کہ وہ ایسی وصیت کیسے کر سکتی تھیں جبکہ نماز جنازہ پڑھانے کا حق بحیثیت امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ہی کو تھا اسی لئے امام حسین رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے حاکم مروان بن حکم کو اور ایک روایت میں سعید بن عاص کو حضرت امام حسن کا جنازہ پڑھانے سے نہیں روکا اور فرمایا کہ اگر شریعت کا حکم ایسا نہ ہوتا تو میں جنازہ کی نماز تمہیں نہ پڑھانے دیتا۔ (اشعۃ اللمعات جلد سوم ص ۴۵۴) اور جب نماز جنازہ پڑھانے کا حق خلیفتہ المسلمین ہی کو تھا تو حضرت سیّدہ کسی کی حق تلفی کی وصیت ہرگزنہیں کر سکتیں۔ معلوم ہوا کہ اس قسم کی وصیت کی نسبت حضرت سیّدہ کی جانب غلط ہے البتہ انہوں نے مرض الموت میں یہ وصیت کی تھی کہ مرنے کے بعد مجھے بے پردہ مردوں کے سامنے نہ نکالیں اس لئے کہ اس زمانہ میں یہ رسم تھی کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی بے پردہ نکالتے تھے‘ تو حضرت ابوبکر کی بیوی حضرت اسماء بنت عمیس نے حضرت سیّدہ کے جنازے کے لئے لکڑیوں کا ایک گہوارہ بنایا جس کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئیں لہٰذا ان کی وصیت انتہائی شرم و حیا کے سبب سے تھی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے خاص نہ تھی بلکہ عام تھی اس لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت سیّدہ کو رات ہی میں دفن کر دیا‘ اور حضرت سیّدہ کے جنازہ میں حضرت ابوبکر صدیق کا شریک نہ ہونا بخاری یا صحاح کی کسی روایت سے ثابت نہیں بلکہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ ان کی نماز جنازہ حضرت ابوبکر صدیق ہی نے پڑھائی جیسا کہ طبقات ابن سعد میں امام شعبی اور امام نخعی سے دو روایتیں مروی ہیں:

“عن الشعبی قال صلی علیھا ابوبکر رضی اللہ عنہ و عن ابراھیم قال صلی ابوبکر ن الصدیق علی فاطمۃ بنت رسول اللہ وکبر علیھا اربعاً۔”

حضرت امام شعبی اور ابراہیم نخعی نے فرمایا کہ حضور کی صاحبزادی حضرت فاطمہ کی نماز جنازہ حضرت ابوبکر نے پڑھائی اور نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہیں‘ اور اگر جنازہ میں شریک نہ ہونا مان بھی لیا جائے تو اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ حضرت علی نے حضرت ابوبکر کو بلانے کے لئے کسی کو نہ بھیجا ہو تو حضرت ابوبکر نے سمجھا ہو کہ اس میں کوئی مصلحت ہے اس لئے شریک نہ ہوئے ہوں‘ اور حضرت علی نے یہ خیال کیا ہو کہ وہ خود آئیں گے اور رات کا وقت تھا اس لئے ان کی شرکت کے بغیر تجہیز و تکفین کر دی۔ کذاذکرہ السمھودی فی تاریخ المدینۃ                                              (اشعۃ اللمعات جلد سوم ص ۴۵۴)

 اور اگر رافضی کسی بات کو نہ مانیں اور جنازہ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ حضرت سیّدہ کی وصیت ہی کو ٹھہرائیں تو پھر ان کے پاس اس کا کیا جواب ہو گا کہ سیّدہ کی نماز جنازہ صرف سات آدمیوں نے پڑھی جیسا کہ رافضیوں کی معتبر کتاب جلاء العیون میں کلینی سے روایت ہے کہ ’’از امیر المومنین صلوات اللہ علیہ روایت کردہ است کہ ہفت کس برجنازہ فاطمہ نماز کردند ابوذر و عمار و حذیفہ و عبداللہ بن مسعود و مقداد و من امام ایشاں بودم۔‘‘ امیر المومنین حضرت علی سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: صرف سات آدمیوں نے فاطمہ کی نماز جنازہ پڑھی، ابوذر، سلمان، عمار، حذیفہ، عبداللہ بن مسعود، مقداد اور میں ان کا امام تھا۔ اس روایت سے ثابت ہوا کہ صرف سات آدمیوں نے حضرت سیّدہ کی نماز جنازہ پڑھی اور مندرجہ ذیل حضرات ان کے جنازہ میں شریک نہیں ہوئے۔ حضرت امام حسن، حضرت امام حسین، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عقیل بن طالب، حضرت جعفر بن طالب، حضرت قیس بن سعد، حضرت ایوب انصاری، حضرت ابوسعید خدری، حضرت سہل بن حنیف، حضرت بلال، حضرت صہیب، حضرت براء بن عاذب اور حضرت ابوارفع رضی اللہ عنہم اجمعین۔ یہ تیرہ حضرات جن کو رافضی بھی مانتے ہیں اور یہ لوگ نماز جنازہ میں شریک نہ ہوئے ان کے بارے میں وہ کیا کہیں گے؟ کیا حضرت سیّدہ ان سے بھی ناراض تھیں؟ کیا انہوں نے یہ بھی وصیت کر دی تھی کہ میرے جنازہ میں امام حسن و امام حسین بھی شریک نہ ہوں جو ان کے لاڈلے اور چہیتے بیٹے تھے؟ لہٰذا ماننے پڑے گا کہ جنازہ میں شریک ہونے نہ ہونے کو رضامندی یا ناراضگی کی بنیاد بنانا ہی غلط ہے ورنہ حضرات حسنین کے بارے میں بھی کہنا پڑے گا کہ ان حضرات سے بھی حضرت سیّدہ ناراض تھیں اور جنازہ میں شریک نہ ہونے کے لئے وصیت کر گئی تھیں توثابت ہوا کہ اگر حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت سیّدہ کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی تو اس کو آپ کا حضرت سیّدہ کی ناراضگی کی دلیل ٹھہرانا غلط ہے۔

“حضرت ابوبکر نے حضرت سیّدہ کو اپنی پوری جائیداد پیش کی(رضی اللہ عنہما)”

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نہایت التجا کے ساتھ اپنی پوری جائیداد حضرت سیّدہ کو پیش کی جیسا کہ رافضیوں کی معتبر کتاب حق الیقین میں ہے کہ حضرت سیّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا نے جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فدک کا مطالبہ کیا تو انہوں نے حدیث رسول لانورث مانرکنا صدقۃ کو سنانے کے بعد بہت معذرت کی اور کہا کہ ’’اموال و احوال خودرا از تو مضائقہ نمی کنم آں چہ خواہی بگیر تو سیّدۂ امت پدر خودی و شجرۂ طیبہ از برائے فرزنداں خود انکار فضل تو کسے نمی تواند گردد تو حکم تو نافذست در اموال من امادر اموال مسلمانان مخالفت گفتۂ پدر تو نمی توانم کرد۔‘‘ میرے جملہ اموال و احوال میں آپ کو اختیار ہے آپ جو چاہیں بلا روک ٹوک لے سکتی ہیں‘ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی سردار ہیں اور آپ کے فرزندوں کے لئے شجرۂ مبارکہ میں آپ کی فضیلت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور آپ کا حکم میرے تمام مالوں میں نافذ ہے لیکن مسلمانوں کے مالوں میں آپ کے والد ماجد سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی مخالفت میں نہیں کر سکتا۔ (حق الیقین ملا مجلسی ص ۲۳۱) رافضیوں کی اس مذہبی کتاب سے خوب واضح ہو گیا کہ حضرت سیّدہ حضرت ابوبکر کے نزدیک بہت محترم تھیں وہ حضرت سیّدہ کی بہت عزت کرتے تھے۔ ہرگز ہرگز ان کے دل میں حضرت سیّدہ کی طرف سے کوئی بغض و عناد نہ تھا صرف حدیث رسول کے سبب فدک ان کے حوالہ نہ کیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دامن ہر طرح کے الزام سے پاک ہے‘ اور ن پر باغ فدک کے غصب اور حضرت سیّدہ کی دشمنی کا الزام لگانا سراسر غلط ہے۔ اس مفصل جواب کا مقصد بحث و مناظرہ نہیں ہے بلکہ اپنے مسلک کی وضاحت اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسی واجب الاحترام ہستی پر جو طعن کیا جاتا ہے اس سے مدافعت مقصود ہے۔ خداتعالیٰ سب کو ہٹ دھرمی سے بچائے اور حق بات قبول کرنے کی سب کو توفیق بخشے۔ امین برحمتک یا ارحم الراحمین وصلی اللّٰہ تعالیٰ علیٰ سیّدنا محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔

معتبر کتاب حق الیقین میں ہے

 کہ حضرت سیّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا نے جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فدک کا مطالبہ کیا تو انہوں نے حدیث رسول لانورث مانرکنا صدقۃ کو سنانے کے بعد بہت معذرت کی اور کہا کہ ’’اموال و احوال خودرا از تو مضائقہ نمی کنم آں چہ خواہی بگیر تو سیّدۂ امت پدر خودی و شجرۂ طیبہ از برائے فرزنداں خود انکار فضل تو کسے نمی تواند گردد تو حکم تو نافذست در اموال من امادر اموال مسلمانان مخالفت گفتۂ پدر تو نمی توانم کرد۔‘‘ میرے جملہ اموال و احوال میں آپ کو اختیار ہے آپ جو چاہیں بلا روک ٹوک لے سکتی ہیں‘ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی سردار ہیں اور آپ کے فرزندوں کے لئے شجرۂ مبارکہ میں آپ کی فضیلت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور آپ کا حکم میرے تمام مالوں میں نافذ ہے لیکن مسلمانوں کے مالوں میں آپ کے والد ماجد سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی مخالفت میں نہیں کر سکتا۔            (حق الیقین ملا مجلسی ص ۲۳۱)

 رافضیوں کی اس مذہبی کتاب سے خوب واضح ہو گیا کہ حضرت سیّدہ حضرت ابوبکر کے نزدیک بہت محترم تھیں وہ حضرت سیّدہ کی بہت عزت کرتے تھے۔ ہرگز ہرگز ان کے دل میں حضرت سیّدہ کی طرف سے کوئی بغض و عناد نہ تھا صرف حدیث رسول کے سبب فدک ان کے حوالہ نہ کیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دامن ہر طرح کے الزام سے پاک ہے‘ اور ن پر باغ فدک کے غصب اور حضرت سیّدہ کی دشمنی کا الزام لگانا سراسر غلط ہے۔ اس مفصل جواب کا مقصد بحث و مناظرہ نہیں ہے بلکہ اپنے مسلک کی وضاحت اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسی واجب الاحترام ہستی پر جو طعن کیا جاتا ہے اس سے مدافعت مقصود ہے۔ خداتعالیٰ سب کو ہٹ دھرمی سے بچائے اور حق بات قبول کرنے کی سب کو توفیق بخشے۔”

” امین برحمتک یا ارحم الراحمین وصلی اللّٰہ تعالیٰ علیٰ سیّدنا محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔”

کتبہ: جلال الدین احمد امجدی

 ۲۴؍ ذی القعدہ ۱۴۰۰ھ؁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *