کامل پیر کی شرائط

سوال: کسی پیر کا مرید ہونا ہو تو کیا اس کے لیے کوئی شرط بھی ہے؟
​جواب: پیرِ کامل کی کوئی ایک شرط نہیں بلکہ چار شرائط ہیں اگر ان چار میں سے ایک بھی شرط نہ پائی جائے تو شریعتِ مطہرہ قطعاً اجازت نہیں دیتی کہ اس کا مرید ہوا جائے کیونکہ وہ پیر اور مرید کرنے کے قابل نہیں۔
امامِ اہلسنت، اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ انہیں شرائط کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
​شیخ کا سلسلہ باِتصالِ صحیح حضور اقدس ﷺ تک پہنچتا ہو، بیچ میں منقطع نہ ہو کہ منقطع کے ذریعہ سے اتصال ناممکن ہے۔
​شیخ سنی صحیح العقیدہ ہو، بد مذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا، نہ کہ رسول اللہ ﷺ تک۔
​عالم ہو، اقول: علمِ فقہ اسی کی اپنی ضرورت کے قابل کافی اور لازم کہ عقائدِ اہلسنت سے پورا واقف، کفر و اسلام اور ضلالت و ہدایت کے فرق کا خوب عارف ہو، ورنہ آج بد مذہب نہیں، کل ہو جائے گا۔
​فاسقِ معلن نہ ہو، اقول: اس شرط پر حصولِ اتصال کا توقف نہیں کہ مجرد فسق باعثِ فسخ نہیں مگر پیر کی تعظیم لازم ہے، اور فاسق کی توہین واجب ہے، دونوں کا اجتماع باطل ہے۔
​(فتاویٰ رضویہ شریف، جلد 1، صفحہ 505 تا 507، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *